سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 88
سیرت المہدی 88 حصہ اوّل فن کی رو سے کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور میرا سرٹیفکیٹ تمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے۔مجسٹریٹ بڑ بڑاتا رہا مگر کچھ پیش نہ گئی۔پھر اسی وقفہ میں اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا۔اور نیز کسی ظاہر أنا معلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیا یعنی وہ ای اے سی سے منصف کر دیا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غالباً اس مجسٹریٹ کا نام چند ولال تھا اور وہ تاریخ جس پر اس موقعہ پر حضرت صاحب نے پیش ہونا تھا غالباً ۱۶، فروری ۱۹۰۴ء تھی۔108 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے قاضی امیرحسین صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضور حدیث میں آتا ہے کہ سب نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں کیا کبھی حضور نے بھی چرائی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا اس نے کہا کہ میں ذرا ایک کام جاتا ہوں آپ میری بکریوں کا خیال رکھیں مگر وہ ایسا گیا کہ بس شام کو واپس آیا اور اس کے آنے تک ہمیں اس کی بکریاں چرانی پڑیں۔109 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام، توضیح مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو اب میں مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزا صاحب سے علیحدہ کئے دیتا ہوں۔چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کریں گے۔میرا یہ جواب سن کر وہ بولا۔واہ مولوی صاحب آپ قابو نہ ہی آئے۔یہ قصہ سنا کر حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو پھر بھی مجھے انکار نہ ہو کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرما ئیں گے وہی حق ہو گا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النبین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے