سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 802
سیرت المہدی 802 حصہ سوم موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ تکمیل ہدایت کا زمانہ تھا۔اور مسیح موعود کا زمانہ تکمیل اشاعت کا زمانہ ہے۔933 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں حافظ معین الدین عرف مانا مؤذن مقرر تھا۔اور کچھ وقت احمد نور کا بلی بھی مؤذن رہے ہیں۔اور میں بھی کچھ عرصہ اذان دیتا رہا ہوں۔اور دوسرے دوست بھی بعض وقت اذان دیدیتے تھے۔گویا اس وقت مؤذن کافی تھے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ دو مؤذن ایک ہی وقت اذان دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ایک روز ایک شخص نے اذان دینی شروع کی تو حافظ معین الدین نے بھی شروع کر دی۔پھر حافظ صاحب ہی اذان دیتے رہے اور دوسرا شخص خاموش ہو گیا۔میں نے ایک روز صبح کے وقت اذان دی تو حضرت اقدس اندر سے تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا۔کیونکہ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔اس وقت شوق کی وجہ سے مؤذنوں میں بھی جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔ایک کہتا تھا کہ میں نے اذان دینی ہے اور دوسرا کہتا تھا میں نے دینی ہے۔بعض وقت مولوی عبدالکریم صاحب بھی اذان دید یا کرتے تھے۔934 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ بہت ابتدائی زمانہ کا ذکر ہے کہ مولوی غلام علی صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بندوبست ضلع گورداسپور مرزا نظام الدین صاحب کے مکان میں آکر ٹھہرے ہوئے تھے۔ان کو شکار دیکھنے کا شوق تھا۔وہ مرزا نظام الدین صاحب کے مکان سے باہر نکلے اور ان کے ساتھ چند کس سانسی بھی جنہوں نے کتے پکڑے ہوئے تھے نکلے۔مولوی غلام علی صاحب نے شاید حضرت صاحب کو پہلے سے اطلاع دی ہوئی تھی یا حضرت صاحب خودان کی دلداری کے لئے باہر آگئے۔بہر حال اس وقت حضرت صاحب بھی باہر تشریف لے آئے۔اور آپ آگے آگے چل پڑے اور ہم پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔اس وقت حضرت صاحب کے پاؤں میں جو جو تا تھا۔وہ شاید ڈھیلا ہونے کی وجہ سے ٹھیک ٹھیک کرتا جاتا تھا۔مگر وہ بھی حضرت صاحب کو اچھا معلوم ہوتا۔چلتے