سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 803 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 803

سیرت المہدی 803 حصہ سوم چلتے پہاڑی دروازہ پر چلے گئے۔وہاں ایک مکان سے سانسیوں نے ایک بلے کو چھیڑ کر نکالا۔یہ بلا شاید جنگلی تھا جو وہاں چھپا ہوا تھا۔جب وہ بلا مکان سے باہر بھاگا تو تمام کتنے اس کو پکڑنے کے لئے دوڑے۔یہاں تک کہ اس بلے کو انہوں نے چیر پھاڑ کر رکھدیا۔یہ حالت دیکھ کر حضرت صاحب چپ چاپ واپس اپنے مکان کو چلے آئے اور کسی کو خبر نہ کی۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ صدمہ دیکھ کر آپ نے برداشت نہ کیا اور واپس آگئے۔935 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۹۸-۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ جلسہ کے موقعہ پر قادیان کے نزدیک ایک گاؤں کے احمدی جلسہ پر آئے۔یہ گاؤں فیض اللہ چک یا حصہ غلام نبی یا سیکھواں تھا۔جو قادیان سے قریب ہی واقع تھا۔وہاں کے لوگوں نے برسبیل تذکرہ ذکر کیا کہ ہمارے گاؤں کے اکثر لوگ بہت مخالف ہیں اور حضرت صاحب اور آپ کے مریدوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اگر ان کو دلائل سُنا ئیں تو سنتے نہیں۔اس پر ایک مرحوم دوست حافظ محمد حسین صاحب نابینا جو ڈنگہ ضلع گجرات کے رہنے والے تھے کہنے لگے کہ میں تمہارے گاؤں میں آؤنگا اور غیر احمدیوں کی مسجد میں ٹھہر ونگا اور غیر احمدی بن کر تم سے مباحثہ کرونگا۔پھر جب شکست کھا جاؤنگا تو مخالفین پر اچھا اثر پڑے گا۔نیز وہ اس بہانے سے تمہارے دلائل سُن لیں گے۔غرض یہ سمجھوتہ ہو گیا۔جلسہ کے بعد وہ لوگ اپنے گاؤں چلے گئے اور حافظ صاحب مرحوم ایک دو روز بعد اس گاؤں میں پہنچے اور غیر احمدیوں کی مسجد میں ٹھہرے۔اور وہاں للکار کر کہا کہ یہاں کوئی میرزائی ہے؟ میرے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔لاؤ میں ان کو تو بہ کراؤں۔غیر احمدیوں نے کہا۔ہاں یہاں فلاں شخص ہیں۔حافظ صاحب نے کہا کہ ان کو بلاؤ تو میں ان کو قائل کروں اور بحث میں شکست دوں۔وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور مجمع ہو گیا۔احمدی بلائے گئے۔سوال و جواب شروع ہوئے اور حیات وفات مسیح پر بحث ہونے لگی۔پہلے تو حافظ صاحب نے مشہور مشہور دلیلیں غیر احمد یوں والی پیش کیں۔پھر ہوتے ہوتے احمدیوں نے ان کو دبانا شروع کیا۔آخر وہ بالکل خاموش ہو گئے اور یہ کہ دیا کہ میں آگے نہیں چل سکتا۔واقعی ان دلائل کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔غیر احمدیوں کو شبہ پڑ گیا کہ یہ شخص سکھایا ہوا آیا ہے۔ورنہ اگر یہ شخص غیر احمدی ہوتا۔تو فوراً اس طرح قائل نہ ہوتا۔اس پر انہوں نے حافظ صاحب کو بُرا بھلا