سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 801 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 801

سیرت المہدی 801 حصہ سوم 929 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مفصلہ ذیل ادویات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے صندوق میں رکھتے تھے۔اور انہی کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔انگریزی ادویہ سے کونین، ایسٹن ،سیرپ، فولاد، ارگٹ، وائٹینیم اپی کاک ، کولا اور کولا کے مرکبات ،سپرٹ ایمونیا۔بیدمشک ، سٹرنس وائن آف کا ڈلور آئل۔کلوروڈین کا کل پل سلفیورک ایسڈ ایرو میٹک، سکاٹس ایملشن رکھا کرتے تھے۔اور یونانی میں سے۔مُشک عنبر، کافور، ہینگ ، جدوار۔اور ایک مرکب جو خود تیار کیا تھا یعنی تریاق الہی رکھا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غرباء کی مشک ہے۔اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔اسی لئے اسے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے۔ان میں سے بعض دوائیں اپنے لئے ہوتی تھیں اور بعض دوسرے لوگوں کے لئے کیونکہ اور لوگ بھی حضور کے پاس دوا لینے آیا کرتے تھے۔930 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز صبح کے وقت کچھ پہلے تشریف لے آئے۔ابھی کوئی روشنی نہ ہوئی تھی۔اس وقت آپ مسجد کے اندراندھیرے میں ہی بیٹھے رہے۔پھر جب ایک شخص نے آکر روشنی کی تو فرمانے لگے کہ دیکھو روشنی کے آگے ظلمت کس طرح بھا گتی ہے۔931 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک روز پیر سراج الحق صاحب سرساوی اپنے علاقہ کے آموں کی تعریف کر رہے تھے کہ ہمارے علاقہ میں آم بہت میٹھے ہوتے ہیں۔جو لوگ ان کو کھاتے ہیں۔تو گٹھلیوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔گویا لوگ کثرت سے آم چوستے ہیں۔اس وقت حضرت اقدس بھی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔فرمایا۔پیر صاحب جو آم میٹھے ہوتے ہیں وہ عموماً ثقیل ہوتے ہیں اور جو آم کسی قدر ترش ہوتے ہیں وہ سریع الهضم ہوتے ہیں۔پس میٹھے اور ترش دونوں چوسنے چاہئیں۔کیونکہ قدرت نے ان کو ایسا ہی بنایا ہے۔932 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح