سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 800
سیرت المہدی 800 حصہ سوم اچھی ہو جائے گی۔آپ کو پہنچا دیا جائے گا۔لیکن وہ برابر اصرار کرتی رہیں کہ مجھ کو بے قراری ہے جب تک بیعت نہ کرلوں مجھے تسلی نہ ہوگی۔اور شیر شاہ بھی اس روز قادیان سے دوائی لے کر آ گیا۔اور سب ماجرا بیان کیا کہ حضرت صاحب نے بڑی توجہ اور در ددل سے دعا کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اچھے ہوجائیں گے۔جب میں نے تاریخ کا مقابلہ کیا تو جس روز حضرت صاحب نے قادیان میں دُعا کی تھی۔اسی روز خواب میں ان کو زیارت ہوئی تھی اور یہ واقعہ پیش آیا تھا۔اس پر ان کا اعتقاد کامل ہو گیا اور جانے کے لئے اصرار کرنے لگیں۔چنانچہ ان کو صحت یاب ہونے پر قادیان ان کے بھائی سید حسین شاہ اور شیر شاہ ان کے بھتیجے کے ساتھ روانہ کر دیا۔حضرت صاحب نے ان کی بڑی خاطر تواضع کی اور فرمایا کچھ دن اور ٹھہر ہیں۔وہ تو چاہتی تھیں کہ کچھ دن اور ٹھہریں۔مگر ان کا بھتیجا مدرسہ میں پڑھتا تھا اور بھائی ملازم تھا اس لئے وہ نہ ٹھہر سکیں اور واپس رعیہ آگئیں۔ایک دن کہنے لگیں کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ نے دو انگلیاں کھڑی کر کے فرمایا۔میں اور مسیح دونوں ایک ہیں۔وہ انگلیاں وسطی اور سبابہ تھیں۔چونکہ ولی اللہ شاہ کی والدہ بیعت سے پہلے بھی صاحب حال تھیں۔پیغمبروں اور اولیاء اور فرشتوں کی زیارت کر چکی تھیں۔ان کو خواب کے دیکھنے سے حضرت صاحب پر بہت ایمان پیدا ہوگیا تھا اور مجھ سے فرمانے لگیں کہ آپ کو تین ماہ کی رخصت لے کر قادیان جانا چاہئے اور سخت بے قراری ظاہر کی کہ ایسے مقبول کی صحبت سے جلدی فائدہ اٹھانا چاہئے۔زندگی کا اعتبار نہیں۔ان کے اصرار پر میں تین ماہ کی رخصت لے کر قادیان پہنچا۔سب اہل و عیال ساتھ تھے۔حضرت صاحب کو کمال خوشی ہوئی اور اپنے قریب کے مکان میں جگہ دی۔اور بہت ہی عزت کرتے تھے اور خاص محبت و شفقت اور خاطر تواضع سے پیش آتے تھے۔928 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ لنگر کا انتظام حضور علیہ السلام کے ابتدائی ایام میں گھر میں ہی تھا۔گھر میں دال سالن پکتا اور لوہے کے ایک بڑے توے پر جسے لوہ کہتے ہیں روٹی پکائی جاتی۔پھر باہر مہمانوں کو بھیج دی جاتی۔اس لوہ پر ایک وقت میں دو، تین نوکرانیاں بیٹھ کر روٹیاں یکدم پکا لیا کرتی تھیں۔اس کے بعد جب باہر انتظام ہوا تو پہلے اس مکان میں لنگر خانہ منتقل ہوا جہاں اب نواب صاحب کا شہر والا مکان کھڑا ہے۔پھر باہر مہمان خانہ میں چلا گیا۔