سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 799 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 799

سیرت المہدی 799 حصہ سوم تھا۔وہ رات ولی اللہ شاہ کی والدہ پر اس قد رسخت گذری کہ معلوم ہوتا تھا کہ صبح تک وہ نہ بچیں گی۔اور ان کو بھی یقین ہو گیا کہ میں نہیں بچوں گی۔اسی روز انہوں نے خواب میں دیکھا کہ شفاخانہ رعیہ میں جہاں میں ملا زم تھا اس کے احاطہ کے بیرونی طرف سٹرک کے کنارہ ایک بڑا سا خیمہ لگا ہوا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیمہ مرزا صاحب قادیانی کا ہے۔کچھ مرد ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ عورتیں ایک طرف بیٹھی ہوئی ہیں۔مرد اندر جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں۔پھر عورتوں کی باری آئی وہ بھی ایک ایک کر کے باری باری جاتی ہیں۔جب خود ان کی باری آئی۔تو یہ بہت ہی نحیف اور کمز ورشکل میں پردہ کئے ہوئے حضور کی خدمت میں جا کر بیٹھ گئیں۔آپ نے فرمایا۔آپ کو کیا تکلیف ہے۔انہوں نے انگلی کے اشارہ سے سینہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھ کو بخار ہے۔دل کی کمزوری اور سینہ میں درد ہے۔آپ نے اسی وقت ایک خادمہ کو کہا کہ ایک پیالہ میں پانی لاؤ۔جب پانی آیا۔تو آپ نے اس پر دم کیا اور اپنے ہاتھ سے ان کو وہ دیا اور فرمایا۔اس کو پی لیں۔اللہ تعالیٰ شفا دیگا۔پھر سب لوگوں نے اور آپ نے دعا کی اور وہ پانی انہوں نے پی لیا۔پھر والدہ ولی اللہ شاہ نے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔اور اسم شریف کیا ہے۔فرمایا کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور میرا نام غلام احمد ہے اور قادیان میں میری سکونت ہے۔خدا کے فضل سے پانی پیتے ہی ان کو صحت ہوگئی۔اس وقت انہوں نے نذر مانی کہ حضور کی خدمت میں بیعت کے لئے جلد حاضر ہوں گی۔فرمایا بہت اچھا۔بعد اس کے وہ بیدار ہو گئیں۔جب انہوں نے یہ خواب دیکھی۔تو ابھی شیر شاہ قادیان سے واپس نہ پہنچا تھا۔بلکہ دوسرے دن صبح کو پہنچا۔اس رات کو بہت مایوسی تھی اور میرا خیال تھا کہ صبح جنازہ ہو گا لیکن صبح بیدار ہونے کے بعد انہوں نے آواز دی کہ مجھ کو بھوک لگی ہے۔مجھے کچھ کھانے کو دو اور مجھے بٹھاؤ۔اسی وقت ان کو اٹھایا اور دودھ پینے کے لئے دیا۔اور سخت حیرت ہوئی کہ یہ مردہ زندہ ہوگئیں۔عجیب بات تھی کہ اس وقت ان میں طاقت بھی اچھی پیدا ہوگئی اور اچھی طرح گفتگو بھی کرنے لگیں۔میرے پوچھنے پر انہوں نے یہ سارا خواب بیان کیا اور کہا کہ یہ سب اس پانی کی برکت ہے جو حضرت صاحب نے دم کر کے دیا تھا اور دعا کی تھی۔صبح کو وہ خود بخود بیٹھ بھی گئیں۔اور کہا کہ مجھ کو فوراً حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا دو۔کیونکہ میں عہد کر چکی ہوں کہ میں آپ کی بیعت کے لئے حاضر ہونگی۔میں نے کہا ابھی آپ کی طبیعت کمزور ہے اور سفر کے قابل نہیں۔جس وقت آپ کی حالت