سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 73
سیرت المہدی 73 حصہ اوّل کہنی آپ نے سر کے نیچے بطور تکیہ کے رکھ لی اور دوسری اسی صورت میں سر کے اوپر ڈھانک لی۔میں پاؤں دبانے بیٹھ گیا۔وہ رمضان کا مہینہ تھا اور ستائیس تاریخ تھی اور جمعہ کا دن تھا اس لئے میں دل میں بہت مسرور تھا کہ میرے لئے ایسے مبارک موقعے جمع ہیں۔یعنی حضرت صاحب جیسے مبارک انسان کی خدمت کر رہا ہوں وقت فجر کا ہے جو مبارک وقت ہے مہینہ رمضان کا ہے جو مبارک مہینہ ہے۔تاریخ ستائیس اور جمعہ کا دن ہے اور گزشتہ شب شب قدر تھی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ جب رمضان کی ستائیس تاریخ اور جمعہ مل جاویں تو وہ رات یقیناً شب قدر ہوتی ہے۔میں انہی باتوں کا خیال کر کے دل میں مسرور ہو رہا تھا کہ حضرت صاحب کا بدن یکلخت کانپا اور اس کے بعد حضور نے آہستہ سے اپنے اوپر کی کہنی ذرا ہٹا کر میری طرف دیکھا اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اس کے بعد آپ نے پھر اسی طرح اپنی کہنی رکھ لی۔میں دباتے دباتے حضرت صاحب کی پنڈلی پر آیا تو میں نے دیکھا کہ حضور کے پاؤں پر ٹخنے کے نیچے ایک اٹن یعنی سخت سی جگہ تھی اس پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا تھا جو بھی تازہ گرے ہونے کی وجہ سے بستہ تھا۔میں نے اسے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی لگا کر دیکھا کہ کیا ہے۔اس پر وہ قطرہ ٹخنے پر بھی پھیل گیا اور میری انگلی پر بھی لگ گیا ، پھر میں نے اسے سونگھا کہ شاید اس میں کچھ خوشبو ہو مگر خوشبو نہیں تھی۔میں نے اسے اس لئے سونگھا تھا کہ اسی وقت میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ یہ کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بات ہے اس لئے اس میں کوئی خوشبو ہوگی۔پھر میں دبا تا دباتا پسلیوں کے پاس پہنچا وہاں میں نے اسی سرخی کا ایک اور بڑا قطرہ کرتہ پر دیکھا۔اس کو بھی میں نے ٹولا تو وہ بھی گیلا تھا۔اس وقت پھر مجھے حیرانی سی ہوئی کہ یہ سرخی کہاں سے آگئی ہے۔پھر میں چار پائی سے آہستہ سے اُٹھا کہ حضرت صاحب جاگ نہ اُٹھیں اور پھر اس کا نشان تلاش کرنا چاہا کہ یہ سرخی کہاں سے گری ہے۔بہت چھوٹا سا حجرہ تھا۔چھت میں اردگرد میں نے اس کی خوب تلاش کی مگر خارج میں مجھے اس کا کہیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں سے گری ہے۔مجھے یہ بھی خیال آیا کہ کہیں چھت پر کسی چھپکلی کی دم کٹی ہو تو اس کا خون گرا ہواس لئے میں نے غور کے ساتھ چھت پر نظر ڈالی مگر اس کا کوئی نشان نہیں پایا۔پھر آخر میں تھک کر بیٹھ گیا لے سے تصحیح مطابق روایت نمبر ۳۱۱