سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 74

سیرت المہدی 74 حصہ اوّل اور بدستور دبانے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب اُٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر حجرہ میں سے نکل کر مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔میں وہاں پیچھے بیٹھ کر آپ کے مونڈھے دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے عرض کیا کہ حضور یہ آپ پر سرخی کہاں سے گرمی ہے۔حضور نے بہت بے توجہی سے فرمایا کہ آموں کا رس ہوگا اور مجھے ٹال دیا۔میں نے دوبارہ عرض کیا کہ حضور یہ آموں کا رس نہیں یہ تو سرخی ہے۔اس پر آپ نے سر مبارک کو تھوڑی سی حرکت دے کر فرمایا ” کتھے ہے؟ یعنی کہاں ہے؟ میں نے کرتہ پر وہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے اس پر حضور نے گرتے کو سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنے سر کو ادھر پھیر کر اس قطرہ کو دیکھا۔پھر اس کے متعلق مجھ سے کچھ نہیں فرمایا بلکہ رویت باری اور امور کشوف کے خارج میں وجود پانے کے متعلق پہلے بزرگوں کے دو ایک واقعات مجھے سنائے اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے اس کو یہ آنکھیں دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں البتہ اس کی بعض صفات جمالی یا جلالی متمثل ہو کر بزرگوں کو دکھائی دے جاتے ہیں۔شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی زیارت اپنے والد کی شکل میں ہوئی ہے نیز شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ہلدی کی گٹھی دی کہ یہ میری معرفت ہے اسے سنبھال کر رکھنا جب وہ بیدار ہوئے تو ہلدی کی گٹھی ان کی مٹھی میں موجود تھی۔اور ایک بزرگ جن کا حضور نے نام نہیں بتایا تہجد کے وقت اپنے حجرہ کے اندر بیٹھے مصلی پر کچھ پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور ان کے نیچے کا مصلی نکال کر لے گیا ہے۔جب وہ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ فی الواقع مصلحی ان کے نیچے نہیں تھا۔جب دن نکلنے پر حجرہ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مصلی صحن میں پڑا ہے۔یہ واقعات سنا کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ کشف کی باتیں تھیں مگر خدا تعالیٰ نے ان بزرگوں کی کرامت ظاہر کرنے کیلئے خارج میں بھی ان کا وجود ظاہر کر دیا۔اب ہمارا قصہ سنوں۔جس وقت تم حجرہ میں ہمارے پاؤں دبا رہے تھے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفی مکان ہے اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ احکم الحاکمین یعنی رب العالمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے حاکم کا کوئی سر رشتہ دار ہوتا ہے۔میں نے کچھ احکام قضا و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی