سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 72

یرت المہدی 72 حصہ اوّل کٹ چکا تھا۔نیز میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ علی گڑھ میں لوگوں نے حضرت صاحب سے عرض کر کے حضور کے ایک لیکچر کا انتظام کیا تھا اور حضور نے منظور کر لیا تھا۔جب اشتہار ہو گیا اور سب تیاری ہوگئی اور لیکچر کا وقت قریب آیا تو حضرت صاحب نے سید تفضل حسین صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں لیکچر نہ دوں اس لئے میں اب لیکچر نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا حضور اب تو سب کچھ ہو چکا ہے لوگوں میں بڑی بہتک ہو گی۔حضرت صاحب نے فرمایا خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔پھر اور لوگوں نے بھی حضرت صاحب سے بڑے اصرار سے عرض کیا مگر حضرت صاحب نے نہ مانا اور فرمایا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس کے حکم کے مقابل میں میں کسی ذلت کی پروا نہیں کرتا۔غرض حضرت صاحب نے لیکچر نہیں دیا اور قریباً سات دن وہاں ٹھہر کر واپس لدھیانہ تشریف لے آئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے جب پہلے پہل یہ روایت بیان کی تو یہ بیان کیا کہ یہ سفر حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں کیا تھا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے عرض کیا تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ سفرمیاں ( یعنی حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ) کی پیدائش بلکہ ابتدائی بیعت کے بعد ہوا تھا۔جب میں نے والدہ صاحبہ کی یہ روایت میاں عبداللہ صاحب کے پاس بیان کی تو انہوں نے پہلے تو اپنے خیال کی صحت پر اصرار کیا لیکن آخر ان کو یاد آ گیا کہ یہی درست ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ علی گڑھ کے سفر سے حضرت صاحب کا وہ ارادہ پورا ہوا جو حضور نے سفر ہندوستان کے متعلق کیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی سفر میں مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے حضور کی مخالفت کی اور آخر آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی مگر جلد ہی اس جہاں سے گذر گیا۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف فتح اسلام کے حاشیہ میں اس سفر کا مکمل ذکر کیا ہے ) 100 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ غالباً یہ ۱۸۸۴ء کی بات ہے کہ ایک دفعہ ماہ جیٹھ یعنی مئی جون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں نماز فجر پڑھ کر اس کے ساتھ والے غسل خانہ میں جو تازہ پلستر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈا تھا ایک چارپائی پر جو وہاں بچھی رہتی جالیے۔چار پائی پر بستر اور تکیہ وغیرہ کوئی نہ تھا۔حضرت کا سرقبلہ کی طرف اور منہ شمال کی طرف تھا۔ایک