سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 772
سیرت المہدی 772 حصہ سوم 871 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے دو دفعہ دیکھا کہ مہمان خانہ میں بعض لوگوں نے روزوں پر زور دیا تو ان میں جنون کے آثار پیدا ہو گئے اور بہت دودھ پلا کر اور علاج کر کے ان کی خشکی دور ہوئی۔اور کئی دن میں اچھے ہوئے۔یہ دونوں واقعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے ہیں۔اور دونوں سرحد کی طرف کے لوگوں کے متعلق ہیں۔حضور فرماتے تھے کہ جب تک خدا کی طرف سے اشارہ نہ ہو۔اپنی طاقت سے زیادہ روزے رکھنے اور پھر غذا نہ کھانا آخر مصیبت لاتا ہے۔اور فرماتے تھے کہ ہم نے تو ایمائے الہی سے روزوں کا مجاہدہ کیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس فلسفہ کو حضرت صاحب نے کتاب البریہ میں بیان کیا ہے۔872 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس سفر دہلی میں جو آپ نے اوائل دعوی میں ۱۸۹۱ء میں کیا تھا میں اور والدہ صاحبہ حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔میر صاحب یعنی والد صاحب کی تبدیلی پٹیالہ ہوئی تھی۔وہ وہاں نئے کام کا چارج لینے گئے تھے۔اس لئے ہم کو حضرت صاحب کے ساتھ چھوڑ گئے تھے۔حضرت صاحب نواب لوہارو کی کوٹھی کے اوپر جو مکان تھا اس میں اُترے تھے۔یہیں ایک طرف مردانہ اور دوسری طرف زنانہ تھا۔اکثر اوقات زنانہ سیڑھی کے دروازوں کو بند رکھا جاتا تھا۔کیونکہ لوگ گالیاں دیتے ہوئے اوپر چڑھ آتے تھے اور نیچے ہر وقت شور و غوغا رہتا تھا اور گالیاں پڑتی رہتی تھیں۔بدمعاش لوگ اینٹیں اور پتھر پھینکتے تھے۔میری والدہ صاحبہ نے ایک روز مجھے سُنایا کہ جو بُڑھیا روٹی پکانے پر رکھی ہوئی تھی۔وہ ایک دن کہنے لگی کہ بیوی یہاں آجکل دہلی میں کوئی آدمی پنجاب سے آیا ہوا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں حضرت عیسے ہوں اور امام مہدی ہوں۔اس نے شہر میں بڑا فساد مچا رکھا ہے اور کفر کی باتیں کر رہا ہے۔کل میرا بیٹا بھی چھری لیکر اس کو مارنے گیا تھا۔کئی بلے کئے۔مگر دروازہ اندر سے بند تھا کھل نہ سکا۔مولویوں نے کہہ رکھا ہے کہ اس کو قتل کر دو۔مگر میرے لڑکے کو موقعہ نہ ملا۔اس بیچاری کو اتنی خبر نہ تھی کہ جن کے گھر میں بیٹھی وہ یہ باتیں کر رہی ہے یہ انہی کا ذکر ہے اور اسی گھر پر حملہ کر کے اس کا بیٹا آیا تھا۔اور بیٹے صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ میری ماں اسی گھر میں کام کرتی ہے۔