سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 773 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 773

سیرت المہدی 773 حصہ سوم 873 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی تو ابتداء دعوے مسیحیت سے ہی بیعت میں داخل ہو گئے تھے۔مگر ان کے والد حکیم حسام الدین صاحب جو بڑے طنطنہ کے آدمی تھے وہ اعتقاد تو عمدہ رکھتے تھے مگر بیعت میں داخل نہیں ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ بڑے تھے اور سیالکوٹ کے زمانہ کے دوست بھی تھے۔میر حامد شاہ صاحب ہمیشہ ان کو بیعت کے لئے کہتے رہتے تھے مگر وہ ٹال دیتے تھے۔ان کو اپنی بڑائی کا بہت خیال تھا۔ایک دفعہ شاہ صاحب ان کو قادیان لے آئے اور سب دوستوں نے ان پر زور دیا کہ جب آپ سب کچھ مانتے ہیں تو پھر بیعت بھی کیجئے۔خیر انہوں نے مان لیا مگر یہ کہا کہ میں اپنی وضع کا آدمی ہوں۔لوگوں کے سامنے بیعت نہ کرونگا۔مجھ سے خفیہ بیعت لے لیں۔میر حامد شاہ صاحب نے اسے ہی غنیمت سمجھا۔حضرت صاحب سے ذکر کیا تو آپ نے منظور فرمالیا اور علیحدگی میں حکیم صاحب مرحوم کی بیعت لے لی۔874 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ پلیگ کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دوا جس کا نام ” درونج عقربی“ ہے اور اس کی شکل بچھو کی طرح ہوتی ہے تاگے میں باندھکر گھر میں کئی جگہ لڑکا دی تھی۔اور فرماتے تھے کہ حکماء نے اس کی بابت لکھا ہے کہ یہ ہوا کو صاف کرتی ہے۔875 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نورمحمد صاحب ساکن فیض اللہ چک ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحبزادہ بشیر اول فوت ہو گیا اور خاکسار بطور تعزیت حضرت صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ حضور مخالفین اس واقعہ پر بہت تمسخر کرتے ہیں تو آپ نے جواب میں یہ آیات پڑھکر سُنا دیں۔مَانَنُسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرِ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا (البقرة: ۱۰۷) اور حَتَّى إِذَا اسْتَايْنَسَ الرُّسُلُ وُظَنُّو انَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَ هُمْ نَصْرُنَا (يوسف: ١١١) خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان آیات قرآنی کے معنے یہ ہیں کہ ہم جب کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا فراموش کر دیتے ہیں تو پھر اس سے بہتر آیت لاتے ہیں یا اسی کی مثل لے آتے ہیں اور جب خدا کے