سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 771
سیرت المہدی 771 حصہ سوم اور اس میں گاہے بگا ہے برف بنائی جاتی تھی۔ایک دن ایک برف بنانے والے کی بے احتیاطی اور زیادہ آگ دینے کی وجہ سے وہ پھٹ گئی اور تمام گھر میں ایمونیا کے بخارات ابر کی طرح پھیل گئے۔اور اس کی تیزی سے لوگوں کی ناکوں اور آنکھوں سے پانی جاری ہو گیا مگر کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ پرانی طرز کی مشین تھی جسے ایک طرف پانی میں رکھتے تھے اور دوسری طرف سے آگ دیتے تھے اور تقریبا دو تین گھنٹے میں برف جم جاتی تھی۔870 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے قادیان کی وہ حالت دیکھی ہے جبکہ یہاں کے عام لوگ اردو سمجھ نہیں سکتے تھے۔بڑی بڑی عمر کے مردلنگوٹی باندھتے تھے اور قریب بر ہنہ رہتے تھے۔رات کو عورت مرد کپڑے اتار کر سرہانے رکھ دیتے تھے اور ننگے لحاف میں گھس جاتے تھے۔بچے بڑی عمر تک ننگے پھرتے تھے۔سروں میں بیچ میں سے بال منڈے ہوئے ہوتے تھے۔خدا رسول کا نام تک نہیں جانتے تھے۔پڑھا لکھا کوئی کوئی ہوتا تھا۔دال یا گڑیالسی یا آم کا اچار بس یہی نعماء تھیں۔سواری کے لئے بیل گاڑی یا یکہ ہوتا تھا۔بیمار ہوں تو کوئی علاج کا انتظام نہ تھا۔مکانات تنگ اور کچے اور گندے تھے۔یا اب حضور کی برکت سے یہاں کے ادنیٰ لوگ بھی علم والے۔اچھی پوشش اور ستر دار کپڑا پہننے والے۔متمول۔جائز نعمتیں کھانے والے۔پڑھے لکھے۔دین کا علم رکھنے والے ہو گئے ہیں۔قادیان میں پختہ اور عمدہ مکانات بکثرت بن گئے ، مدر سے قائم ہو گئے۔کمیٹی بن گئی۔ہسپتال ہو گیا۔موٹر ہو گئے۔طرح طرح کا تجارتی مال آ گیا۔تار آ گیا اور اب تو ریل۔ٹیلیفون اور بجلی بھی آگئی ہے۔غرض دین کے ساتھ دنیاوی عروج بھی آگیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں ان ترقی اور آرام کے سامانوں کو دیکھ کر کبھی کبھی خیال کرتا ہوں کہ خدا کی طرف سے قربانی کا مطالبہ بھی عجیب رنگ رکھتا ہے۔کہ ایک طرف قربانی کا مطالبہ فرماتا ہے اور پھر دوسری طرف قربانی کے خفیف سے اظہار پر خود ہی سب کچھ دینا شروع کر دیتا ہے۔یا شاید ہماری کمزوری کو دیکھ کر ہم سے خاص طور پر نرمی کا سلوک کیا گیا ہے۔مگر میں خیال کرتا ہوں کہ ابھی بعض بڑی قربانیوں کا زمانہ آگے آنے والا ہے۔واللہ اعلم