سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 770 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 770

سیرت المہدی 770 حصہ سوم پیروں والا چلن نہیں۔پھر حکم دیا کہ اب گرمی سخت ہے اس لئے آپ آرام کریں۔حافظ صاحب نے مجھے گول کمرہ میں چارپائی بچھا دی۔وہاں پر میں سویا رہا۔پھر ظہر کے وقت مسجد میں حضرت جی کی اقتداء میں نماز پڑھی۔اور اس وقت غالباً ہم تینوں ہی تھے ( یعنی میں۔حافظ حامد علی اور حضرت جی ) میں چند یوم یہاں ٹھہرا۔اور پھر حضرت جی سے براہین احمدیہ مانگی۔آپ نے فرمایا کہ ختم ہو چکی ہے۔مگر ایک جلد ہے جس پر میں تصحیح کرتا ہوں۔اس میں بھی پہلا حصہ نہیں ہے۔مگر پہلا حصہ تو فقط اشتہار ہے آپ یہی تین حصے لے جائیں۔وہ کتاب لے کر میں واپس آ گیا۔ان دنوں دار الامان بالکل اجاڑ تھا۔پھر تھوڑی مدت کے بعد سُنا کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ ینگے“ میں نے عرض کی کہ حضور وہ بادشاہ تو آئیں گے جب آئیں گے۔آپ مجھ کو تو ایک کپڑا عنایت فرمائیں۔حضرت صاحب نے اپنا گر نہ مرحمت فرمایا۔جواب تک میرے پاس موجود ہے۔ان ایام میں میں جب کبھی قادیان آتا تو دیکھتا تھا کہ حضرت صاحب مہمانوں سے مل کر کھانا کھاتے تھے اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے منہ میں ڈالتے جاتے تھے اور اچھی چیزیں ہم لوگوں کے لئے پکوا کر لاتے اور چائے وغیرہ جو چیز پکتی ، عنایت فرماتے اور بڑی محبت اور اخلاق سے پیش آتے۔جتنی دفعہ باہر تشریف لاتے۔اس عاجز سے محبت سے گفتگو فرماتے اور فرماتے کہ میں نے آپ کے لئے دُعا لازم کر دی ہے۔ایک دفعہ میں بمعہ اہل وعیال قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مکان میں رہتا تھا۔قریباً بارہ بجے رات کا وقت ہوگا کہ کسی نے دستک دی۔میں جب باہر آیا تو دیکھا کہ حضور ایک ہاتھ میں لوٹا اور گلاس اور ایک ہاتھ میں لیمپ لئے کھڑے ہیں۔فرمانے لگے کہ کہیں سے دودھ آ گیا تھا۔میں نے خیال کیا کہ بھائی صاحب کو بھی دے آؤں۔سبحان اللہ کیا اخلاق تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ ینگے والا الہام بہت پرانا ہے مگر ممکن ہے کہ اس زمانہ میں پھر دوبارہ ہوا ہو۔یا سیٹھی صاحب نے اسے اس وقت سُنا ہو۔869 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ دودھ کی برف کی مشین جس میں قلفا یا صندوقچی کی برف بنائی جاتی ہے، خرید کر منگائی