سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 744 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 744

سیرت المہدی 744 حصہ سوم ٹہلتے بھی رہتے تھے اور تصنیف بھی کرتے جاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا انداز بالکل بے تکلفانہ تھا اور زندگی نہایت سادہ تھی۔820 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ حدیث میں بغیر منڈیر کے کوٹھے پر سونے کی ممانعت ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب عملاً بھی اس حدیث کے مفتی کے ساتھ پابند تھے۔چنانچہ ایک دفعہ غالباً سیالکوٹ میں آپ کی چارپائی ایک بے منڈیر کی چھت پر بچھائی گئی تو آپ نے اصرار کے ساتھ اس کی جگہ کو بدلوا دیا۔اسی طرح کا ایک واقعہ گورداسپور میں بھی ہوا تھا۔821 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ تسبیح پڑھنے کے متعلق یہ قصہ سنایا۔کہ کوئی عورت کسی پر عاشق تھی۔وہ ایک ملا کے پاس اپنی کامیابی کے لئے تعویذ گنڈا لینے گئی۔ملاں اس وقت تسبیح پڑھ رہا تھا۔عورت نے پوچھا۔مولوی جی ! یہ کیا کر رہے ہو؟ مولوی جی کہنے لگے۔مائی اپنے پیارے کا نام لے رہا ہوں۔وہ عورت حیران ہو کر کہنے لگی۔ملاں جی ! نام پیارے کا اور لینا گن گن کر۔یعنی کیا کوئی شخص معشوق کا نام بھی گن گن کر لیتا ہے؟ وہ تو بے اختیار اور ہر وقت دل اور زبان پر جاری رہتا ہے۔اس قصہ سے حضرت صاحب کا منشاء یہ تھا کہ ایک سچے مومن کے لئے خدا کا ذ کر تسبیح کی قیود سے آزاد ہونا چاہئے۔822 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ اس ملک میں مرنے جینے اور شادی بیاہ وغیرہ کی جو رسوم رائج ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو اہلحدیث کی طرح کلی طور پر رڈ نہیں کر دیتے تھے بلکہ سوائے ان رسوم کے جو مشرکانہ یا مخالف اسلام ہوں باقی میں کوئی نہ کوئی تو جیبہ فوائد کی نکال لیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس اس فائدہ یا ضرورت کے لئے یہ رسم ایجاد ہوئی ہے مثلاً نیو تہ (جسے پنجابی میں نیوند را کہتے ہیں) امداد باہمی کے لئے شروع ہوا۔لیکن اب وہ ایک تکلیف دہ رسم ہو گئی ہے۔823 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ