سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 743 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 743

سیرت المہدی 743 حصہ سوم امین اور دیانت دار ہو تو خدا اسے اس حالت میں رکھتا ہی نہیں کہ اُسے ایسی اد نے نوکری نصیب ہو۔اُسے تو غیب سے عزت و رزق ملتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کچھ عرصہ کے بعد خدا نے اس شخص کو حضرت مسیح موعود کی برکت اور ان کی خدمت کے طفیل عزت کی زندگی عطا کی اور رزق وافر سے حصہ دیا۔817 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میری آنکھوں سے پانی بہتا رہتا ہے۔میرے لئے دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا۔میں دُعا کروں گا۔اور فرمایا آپ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) سے اطریفل زمانی بھی لے کر کھائیں۔الحمد للہ کہ اس کے بعد آج تک خاکسار کو پھر کبھی یہ عارضہ نہ ہوا۔818 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن سیر کے وقت حضور علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو بعض مخفی باتیں بھی بتلائی تھیں جن کے اظہار کرنے کی اجازت آپ کو صرف بعض خاص لوگوں میں تھی۔اور عام لوگوں میں وہ ظاہر نہیں کی گئیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن مجید میں تو یہ آیا ہے کہ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ۔الآية (المائده : ۶۸) یعنی اے رسول جو کچھ خدا نے تجھ پر نازل کیا ہے اسے لوگوں تک پہنچادو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کسی ایسی بات کے چھپانے کی ہدایت نہیں ہوئی جو کسی شرعی حکم کی حامل تھی یا اس کو شریعت کی تشریح سے تعلق تھا۔ورنہ بعض انتظامی امور میں یافتن سے تعلق رکھنے والی باتوں میں ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر اخفاء کا حکم ہوا ہو جیسا کہ بعض احادیث میں بھی اس قسم کا اشارہ ملتا ہے اور حضرت صاحب کے الہاموں میں بھی ہے۔واللہ اعلم۔819 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی گھر میں ننگے پیر بھی پھر لیتے تھے۔خصوصاً اگر پختہ فرش ہوتا تھا تو بعض اوقات ننگے پاؤں