سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 745 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 745

سیرت المہدی 745 حصہ سوم میرے والد صاحب بیان کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کی نیت باندھتے تھے تو حضور اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں تک پہنچاتے تھے۔یعنی یہ دونوں آپس میں چُھو جاتے تھے۔824 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد صاحب اور شیخ غلام رسول صاحب متوطن کشمیر بیان کرتے تھے کہ ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر ایک ہی دستر خوان پر جملہ اصحاب کے ساتھ کھانا تناول فرماتے تھے۔اور اس صورت میں کشمیری اصحاب کو بھی اسی مقدار میں کھانا ملتا تھا جتنا کہ دیگر اصحاب کو۔اس پر ایک دن مسیح موعود علیہ السلام نے کھانے کے منتظم کو حکم دیا کہ کشمیر کے لوگ زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ان کو بہت کھانا دیا کرو۔اس پر ہم کو زیادہ کھا نا ملنے لگا۔825 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مولوی قطب الدین صاحب ساکن شر ط علاقہ کشمیر بیان کرتے تھے کہ جب میں احمدی ہوا تو چونکہ ابتدا میں شرط میں کوئی اور احمدی نہ تھا۔لہذا میری مخالفت شروع ہوئی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں مخالفت کی نسبت ایک خط ارسال کیا اور دعا کے لئے درخواست کی۔جس کا جواب حضور علیہ السلام نے یہ رقم فرمایا کہ صبر کرو۔وہاں بھی بہت لوگ ایمان لائیں گے۔خواجہ عبدالرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ بعد میں اگر چہ شر ط والے لوگ تو ابھی تک ایمان نہیں لائے۔لیکن اس کے بالکل متصل گاؤں موسومہ کنیہ پورہ سارے کا سارا احمدی ہو گیا۔اور علاقہ میں کئی اور جگہ احمدیت پھیل گئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ صاحب جلدی کرتے ہیں۔اگر حضرت صاحب نے ایسا فرمایا ہے تو تسلی رکھیں شر ط بھی بیچ نہیں سکتا۔826 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسر موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی تو آپ کی زندگی میں ہی ایک شخص نور محمد نامی جو اس گاؤں کا نام اب ناصر آباد ہے۔سید عبدلی