سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 742 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 742

سیرت المہدی 742 حصہ سوم کرتے اور بعض تو اپنی دکان پر اپنے رنگ میں سجدہ کرنے لگتے۔مگر حضرت صاحب کو خبر نہ ہوتی۔کیونکہ آپ آنکھیں نیچے ڈالے گذرتے چلے جاتے تھے۔ایک دن مستری صاحب نے بعض عمر رسیدہ ہندو دکانداروں سے دریافت کیا۔کہ تم مرزا صاحب کو کیا سمجھتے ہو جو سجدہ کرتے ہو۔انہوں نے جواب دیا۔کہ یہ بھگوان ہیں، بڑے مہا پرش ہیں۔ہم ان کو بچپن سے جانتے ہیں۔یہ خدا کے بڑے بھگت ہیں۔دُنیا بھر کو خدا نے ان کی طرف جھکا دیا ہے۔جب خدا ان کی اتنی عزت کرتا ہے تو ہم کیوں نہ ان کی عزت کریں۔مستری صاحب نے بیان کیا کہ جب سے قادیان میں آریہ سماج قائم ہوئی ہے۔تب سے آریوں نے ہندوؤں کو غیرت اور شرم دلا کر اور مجبور کر کے ایسی حرکات تعظیمی سے روک دیا ہے مگر ان کے دل حضرت صاحب پر قربان تھے۔اور وہ آپ کی بے حد عزت کرتے تھے۔مستری صاحب کا بیان ہے کہ میں نے متعدد مرتبہ قادیان کے ہندوؤں سے حضرت صاحب کے حالات دریافت کئے مگر کبھی کسی ہندو نے حضرت صاحب کا کوئی عیب بیان نہیں کیا۔بلکہ ہر شخص آپ کی تعریف ہی کرتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مستری صاحب کو تفصیلی حالات کا علم نہیں ہے اور نہ وہ قادیان کے سب ہندوؤں سے ملے ہیں۔قادیان کے ہندوؤں کا ایک طبقہ قدیم سے مخالف چلا آیا ہے اور گو یہ درست ہے کہ وہ حضرت صاحب میں کوئی عیب نہیں نکال سکتے مگر مخالفت میں انہوں نے کبھی کمی نہیں کی البتہ بیشتر حصہ پُرانے سناتنی طریق پر ہمیشہ مؤدب رہا ہے۔816 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لنگر خانہ میں ایک شخص نان پز اور باور چی مقررتھا۔اس کے متعلق بہت شکایات حضور کے پاس پہنچیں۔خصوصاً مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی طرف سے بہت شکایت ہوئی۔حضور نے فرمایا۔دیکھو وہ بے چارہ ہر روٹی کے پیچھے دو دفعہ آگ کے جہنم میں داخل ہوتا ہے ( یعنی تندور کی روٹی لگاتے وقت ) اور اتنی محنت کرتا ہے۔اگر آپ کوئی واقعی دیانتدار باورچی مجھے لا دیں۔تو میں آج اسے نکال دوں۔اس مطالبہ پر سب خاموش ہو گئے۔پھر فرمایا کہ اگر کوئی شخص واقعی اعلئے درجہ کا متقی