سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 734
سیرت المہدی 734 حصہ سوم زمین کو ٹھکراتے تھے۔جیسا کہ عموماً جوش کے وقت ایسا شخص کرتا ہے جس کے ہاتھ میں چھڑی ہو۔803 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک سالانہ جلسہ پر حضور علیہ السلام کے لئے مسجد اقصے کے صحن میں اندرونی دیوار کے ساتھ ہی منبر بچھایا گیا۔چونکہ احباب سے مسجد کے باہر کا مشرقی حصہ بھی بھرا ہوا تھا۔جونہی حضور علیہ السلام نے اپنا ایک قدم مبارک منبر پر رکھا ایک شخص نے جواب غیر مبائع ہے۔آواز دی کہ حضور مسجد کے باہر کی طرف زیادہ لوگ ہیں۔منبر باہر کی طرف درمیان صحن میں رکھا جائے۔حضور علیہ السلام نے اپنا پاؤں مبارک اٹھا لیا۔اس پر اندر مسجد سے دوسرے شخص نے جو وہ بھی اب غیر مبائع ہے آواز دی کہ حضور مسجد کے اندر بہت سے لوگ ہیں ان کو آواز نہ آئے گی۔منبر یہیں رہے۔مگر ایک سیالکوٹ کے چوہدری صاحب نے جو کہ مبایعین میں سے ہیں اس کو منع کیا۔اور منبر در میان صحن میں رکھا گیا۔804 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے اپنے دادا، بابا چٹو کو قادیان میں لا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کی کہ حضور ان کو سمجھائیں۔فرمایا کہ پیر فرتوت ہے۔اس کا سمجھنا مشکل ہے۔قریشی صاحب کے دادا صاحب سیر میں نہیں گئے تھے۔بلکہ قریشی صاحب بھی ان کی رہائش کے انتظام میں مشغول تھے اور ساتھ نہیں گئے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قریشی صاحب کے دادا بابا چٹو اہل قرآن تھے۔جنہیں لوگ چکڑالوی کہتے ہیں اور جہاں تک مجھے علم ہے اس عقیدہ پر ان کی وفات ہوئی تھی۔805 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بواسطہ مولوی شیر علی صاحب مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میراں بخش سودائی نے بڑی مسجد سے آتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نام لے کر آواز دی کہ اوئے غلام احمد ا آپ اسی وقت کھڑے ہو گئے۔اور فرمایا ”جی“ اس نے کہا ” اوسلام تے آکھیا کر آپ نے فرمایا ” السلام علیکم اس نے کہا ” معاملہ ادا کر حضور نے جیب میں سے رومال نکال کر جس میں چونی یا اٹھتی بندھی ہوئی تھی کھول کر اُسے دیدی۔وہ خوش ہو کر گھوڑیاں گانے لگا۔