سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 735 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 735

سیرت المہدی 735 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ میراں بخش قادیان کا ایک باشندہ تھا اور پاگل ہو گیا تھا۔بوڑھا آدمی تھا اور قادیان کی گلیوں میں اذانیں دیتا پھرتا تھا۔میں نے اسے بچپن میں دیکھا ہے۔وہ بعض اوقات خیال کرتا تھا کہ میں بادشاہ ہوں اور مجھے لوگوں سے معاملہ کی وصولی کا حق ہے۔806 بسم الله الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اکثر طور پر امام صلوۃ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہوتے تھے اور وہ بالجبر نمازوں میں بسم الله بالجبر پڑھتے اور قنوت بھی کرتے تھے۔اور حضرت احمد علیہ السلام ان کی اقتداء میں ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مسائل میں حضرت صاحب کسی سے تعرض نہیں فرماتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ یہ سب طریق آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں۔مگر خود آپ کا اپنا طریق وہ تھا جس کے متعلق آپ سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اسے اکثر اختیار کیا ہے۔807 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۶ ء کی بات ہے کہ ایک سائل نے جو اپنے آپ کو نوشہرہ ضلع پشاور کا بتا تا تھا اور مہمان خانہ قادیان میں مقیم تھا، حضرت صاحب کو خط لکھا کہ میری مدد کی جائے۔مجھ پر قرضہ ہے۔آپ نے جواب لکھا کہ قرض کے واسطے ہم دعا کریں گے اور آپ بہت استغفار کریں۔اور اس وقت ہمارے پاس ایک روپیہ ہے جو ارسال ہے۔808 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مکان کے مختلف حصوں میں رہائش تبدیل فرماتے رہتے تھے۔سال ڈیڑھ سال ایک حصہ میں رہتے۔پھر دوسرا کمرہ یا دالان بدل لیتے۔یہاں تک کہ بیت الفکر کے اوپر جو کمرہ مسجد مبارک کی چھت پر کھلتا ہے اس میں بھی آپ رہے ہیں۔اور ان دنوں میں گرمی میں آپ کی اور اہل بیت کی چار پائیاں اوپر کی مسجد میں جو محن کی صورت میں ہے بچھتی تھیں۔