سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 733 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 733

سیرت المہدی 733 حصہ سوم نے اس جگہ حضرت عیسے کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے۔جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں ” بھر جائی کانیئے سلام آکھناں واں جس سے مقصود کا نا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے، نہ کہ مریم کی صد یقیت کا اظہار۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنجابی کا معروف محاورہ ”بھابی کانیئے سلام“ ہے۔اس لئے شاید مولوی صاحب کو الفاظ کے متعلق کچھ سہو ہو گیا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ منشا نہیں تھا کہ نعوذ باللہ حضرت مریم صدیقہ نہیں تھیں بلکہ غرض یہ ہے کہ حضرت عیسے کی والدہ کے ذکر سے خدا تعالے کی اصل غرض یہ ہے کہ حضرت عیسے کو انسان ثابت کرے۔802 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں نماز جمعہ کے لئے مسجد اقصے میں تمام لوگ سمانہ سکتے تھے۔تو کچھ لوگ جن میں خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے۔ان کو ٹھوں پر ( جو اب مسجد میں شامل ہو گئے ہیں اور پہلے ہندوؤں کے گھر تھے ) نماز ادا کرنے کے لئے چڑھ گئے۔اس پر ایک ہند و مالک مکان نے گالیاں دینا شروع کر دیں کہ تم لوگ یہاں شور با کھانے کے لئے آجاتے ہو اور میرا مکان گرانے لگے ہو۔غرضیکہ کافی عرصہ تک بد زبانی کرتا رہا۔نماز سے سلام پھیرتے ہی حضور علیہ السلام نے فرمایا۔کہ سب دوست مسجد میں آجائیں۔چنانچہ دوست آگئے اور بعد جمع صلوتین حضور علیہ السلام منبر پر رونق افروز ہوئے اور ایک مبسوط تقریر فرمائی۔جس میں قادیان کے آریوں پر تحری فرماتے ہوئے فرمایا کہ اور لوگ اگر بچ جائیں تو ممکن ہے۔مگر قادیان کے آریہ نہیں بچ سکتے۔اور اس وقت حضور علیہ السلام کی طبیعت میں اس قدر جوش تھا کہ اثنائے تقریر میں آپ بار بارعصائے مبارک زمین پر مارتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عصاء کو زمین پر مارنے سے یہ مراد نہیں کہ لٹھ چلانے کے رنگ میں مارتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی۔اُسے آپ کبھی کبھی زمین سے اٹھا کر اس کے سم سے