سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 708 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 708

سیرت المہدی 708 حصہ سوم سے کھدوایا گیا تھا وہ انگشتری اب تک موجود ہے۔۔۔۔۔۔اور جیسا کی انگشتری سے ثابت ہوتا ہے یہ بھی چھبیس برس کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔حافظ صاحب کی یہ مجال تو نہ ہوئی کہ اس امر کا اظہار کریں۔جو اکیس سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے۔(دیکھو اربعین طبع اول مطبوعہ دسمبر ۱۹۰۰ء نمبر ۳ صفحه ۷۔۸) اس تصریح کی رو سے اول براہین احمدیہ حصہ چہارم کا زمانہ ۱۸۷۹ء چاہئے۔دوم الہام الیس اللَّهُ بِكَافٍ عَبدہ کا زمانہ ۱۸۷۳ء چاہئے۔چنانچہ س کی تصدیق نزول مسیح صفحہ 114 سے بھی ہوتی ہے۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے والد ماجد کی وفات ۱۸۷۴ء میں قرار دی ہے۔اور اسی کتاب کے صفحہ ۲۰۷ میں ۱۸۷۵ء میں قرار دی ہے۔اور اسی وقت وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ اور أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کا الہام ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔مگر سیرۃ المہدی میں آپ کی تحقیق سے حضرت میرزا غلام مرتضے صاحب کی وفات ۱۸۷۶ء میں قرار دی گئی ہے اور براہین احمدیہ حصہ چہارم کی اشاعت ۱۸۸۴ء میں قرار دی گئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اربعین میں حضرت صاحب نے اشاعت براہین کا زمانہ محض تخمینی طور پر لکھا ہے اور کوئی معتین سن بیان نہیں کیا یا شاید اس سے براہین کی اشاعت مراد نہ ہو بلکہ محض تصنیف مراد ہو۔کیونکہ بہر حال یہ یقینی ہے اور خود براہین میں اس کا ثبوت موجود ہے کہ براہین حصہ چہارم کی اشاعت ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی۔باقی رہا دادا صاحب کی وفات کی تاریخ اور الہام وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِق کا سوال۔سو بیشک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان تحریروں میں ایسا ہی لکھا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض دوسری تحریروں سے دادا صاحب کی وفات ۱۸۷۶ء میں ثابت ہوتی ہے (دیکھو کشف الغطاء) اور چونکہ سرکاری ریکارڈ بھی اسی کا مؤید ہے۔اس لئے میں نے اسے ترجیح دی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی تحریر میں ۱۸۷۴ء حضرت صاحب نے محض یاد کی بناء پر لکھا ہے اس لئے ذہول ہو گیا ہے جیسا کہ تاریخوں کا اختلاف بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔مگر بہر حال صحیح سن ۱۸۷۶ ء ہے۔اور چونکہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق کا الہام یقینی طور پر دادا صاحب کی وفات سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس کے متعلق بھی ۱۸۷۶ء کی تاریخ ہی درست سمجھی جائیگی۔واللہ اعلم۔(ب) حقيقة الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ ان الہاموں سے پہلا