سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 709 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 709

سیرت المہدی 709 حصہ سوم الہام اور پہلی پیشگوئی تھی جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کی ( مراد الہام وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق ہے ) گویا پہلا الہام وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق قرار دیا ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۱۰،۲۰۹) مگر آپ نے 'بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ ینگے والے الہام کو اول قرار دیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حقیقۃ الوحی کے حوالہ سے یہ مراد ہے کہ یہ الہام وہ پہلا الہام تھا جو میں نے پورا ہوتے دیکھا نہ یہ کہ نزول کی ترتیب کے لحاظ سے یہ پہلا الہام تھا۔بہر حال جب ایک طرف یہ ثابت ہے کہ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق والا الہام ۱۸۷۶ء کا ہے اور دوسری طرف ” بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ کا الہام حضرت صاحب نے براہین احمدیہ میں صراحت کے ساتھ ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء میں نازل ہونا بیان کیا ہے۔تو ثابت ہوا کہ یہ الہام پہلے کا ہے اور میں اس کو پہلا الہام مجھتار ہا ہوں۔ہاں اب تذکرہ کی اشاعت نے اس معاملہ کو پھر قابل تحقیق بنادیا ہے۔جہاں نزول مسیح کے حوالہ سے بعض الہاموں کو ۱۸۶۸ء سے بھی پہلے کا ظاہر کیا گیا ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ نزول مسیح کے تاریخی اندازے تخمینی ہیں اور یقینی نہیں کہ صحیح ہوں۔واللہ اعلم۔(ج) آپ کی تحقیق سے تصنیف و اشاعت استفتاء وسراج منیر ۹۷ء میں وقوع پذیر ہوئی ہے حالانکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۵۵ اس امر کا مثبت ہے کہ سراج منیر کی تصنیف مارچ ۸۶ء سے پہلے شروع ہو گئی تھی اور اس اشتہار مورخہ یکم مارچ میں اس رسالہ (سراج منیر ) کو قریب الاختتام قرار دے کر صرف چند ہفتوں کا کام باقی رہنا ظاہر کیا گیا ہے۔اور اگر اشتہار کی طباعت اول کی تاریخ ( آخر اشتہار سے) رکھی جاوے تو ۲۰ فروری ۸۶ء ظاہر ہوتی ہے اور اُسی جگہ اسی اشتہار کی تاریخ طباعت بار دوم ۱۸۹۳ء ظاہر کی گئی ہے۔اور اسی اشتہار کی دوبارہ اشاعت پر نوٹ حاشیہ صفحه ۵۵ پر اس امر کا اظہار ہے کہ اس رسالہ سراج منیر کی تصنیف واقعی پہلے ہو چکی تھی اور اشاعت بے شک بعد میں ہوئی ہے۔نیز تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۹۴ کے اشتہار سے بھی سراج منیر کی تصنیف پہلے کی ثابت ہے۔نیز تبلیغ رسالت صفحہ ۱۲۴ حصہ اول میں بھی سراج منیر کی اشاعت کو اس لئے ملتوی رکھنا ظاہر کیا گیا