سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 707 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 707

سیرت المہدی 707 حصہ سوم ان کا ہاتھ پکڑ کر لی تھی۔باقی تمام مستورات کی صرف زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر بوڑے خان صاحب مرحوم قصور کے رہنے والے تھے اور بہت مخلص تھے۔لاہور کے مشہور ایڈووکیٹ خان بہادر مولوی غلام محی الدین صاحب انہی کے لڑکے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ باپ کے بعد وہ جماعت سے قطع تعلق کر چکے ہیں۔767 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز اتنی بلند تھی کہ اگر کبھی مسجد مبارک کی چھت پر جوش کے ساتھ تقریر فرماتے تو آپ کی آواز باغ میں سُنائی دیتی تھی۔نیز جب آپ تصنیف فرمایا کرتے تو اکثر اوقات ساتھ ساتھ اونچی آواز میں خاص انداز سے اپنا لکھا ہوا پڑھتے بھی جاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ ابتداء میں بہت آہستہ آواز سے تقریر شروع فرماتے تھے۔لیکن بعد میں آہستہ آہستہ آپ کی آواز بہت بلند ہو جاتی تھی۔اور باغ سے وہ باغ مراد ہے جو قادیان سے جنوب کی طرف ہے جس کے ساتھ مقبرہ بہشتی واقع ہے اور آپ کا اپنے لکھے ہوئے کو پڑھنا گنگنانے کے رنگ میں ہوتا تھا۔788 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی غلام احمد صاحب المعروف مجاہد خاکسار مؤلف کو مخاطب کر کے تحریر فرماتے ہیں کہ:۔(0) سیرۃ المہدی حصہ دوم کی روایت نمبر ۴۷۰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کا نقشہ دیتے ہوئے آپ نے براہین احمدیہ حصہ چہارم کی اشاعت کا زمانہ ۱۸۸۴ تحریر کیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔دو حافظ صاحب بلکہ تمام علماء اسلام اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعوی ہے اور جس میں بہت سے مکالمات الہیہ درج ہیں۔اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گزر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تیس برس سے یہ دعویٰ مکالمات الہیہ شائع کیا گیا ہے۔اور نیز الہام الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر میں ایک مُہر کن