سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 706 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 706

سیرت المہدی 706 حصہ سوم اخبار الفضل ۳۔ستمبر ۱۹۳۳ء میں شائع ہو چکا ہے۔مضمون بہت محنت اور تحقیق کے ساتھ لکھا ہوا ہے مگر جیسا کہ میں روایت نمبر ۶۱۳ میں لکھ چکا ہوں مجھے اس تحقیق سے اختلاف ہے کیونکہ میری تحقیق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء بنتی ہے۔اور در دصاحب نے جو ہمارے دادا صاحب کی تاریخ وفات ۱۸۷۴ء لکھی ہے۔یہ بھی میری تحقیق میں درست نہیں۔بلکہ صحیح تاریخ ۱۸۷۶ء ہے جیسا کہ حضرت صاحب نے سرکاری ریکارڈ کے حوالہ سے کشف الغطاء میں لکھی ہے۔لیکن ایسے تحقیقی مضامین میں رائے کا اختلاف بھی بعض لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔اس لئے باوجود اس مضمون کے نتیجے اور اس کے بعض حصص سے اختلاف رکھنے کے میں نے مکرمی در دصاحب کے اس محققانہ مضمون کو بعینہ درج کر دیا ہے۔6764 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً رات کو سونے سے پہلے دبوایا کرتے تھے۔کبھی خود باہر سے خدام میں سے کسی کو بلا لیتے تھے۔مگر ا کثر حافظ معین الدین عرف مانا آیا کرتے تھے۔میں بھی سوتے وقت کئی دفعہ دبانے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ایک دن فرمانے لگے۔میاں تم نے مدت سے نہیں دبایا۔آؤ آج ثواب حاصل کرلو۔765 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض اوقات گرمی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پشت پر گرمی دانے نکل آتے تھے تو سہلانے سے انکو آرام آتا تھا۔بعض اوقات فرمایا کرتے۔کہ میاں ”جلون“ کرو۔جس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ انگلیوں کے پوٹے آہستہ آہستہ اور نرمی سے پشت پر پھیرو۔یہ آپ کی اصطلاح تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ”جلون ایک پنجابی لفظ ہے جس کے معنی آہستہ آہستہ کھجلانے کے ہیں۔766 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو دفعہ بیعت کی۔ایک دفعہ غالباً ۱۸۹۶ء میں مسجد اقصے میں کی تھی۔اس وقت میرے ساتھ ڈاکٹر بوڑے خان صاحب مرحوم نے بیعت کی تھی۔دوسری دفعہ گھر میں جس دن حضرت ام المؤمنین نے ظاہری بیعت کی اسی دن میں نے بھی کی تھی۔حضرت ام المؤمنین کی بیعت آپ نے