سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 705
705 حصہ سوم سیرت المہدی جانے کا ارادہ کر لیا۔جس کی طرف آئینہ کمالات اسلام حصہ عربی صفحه ۵۴۳ میں اشارہ کیا گیا ہے اور غالباً ۳۴ ۱۸۳۳ء میں رنجیت سنگھ نے اپنے مرنے سے پانچ سال پہلے قادیان کے اردگرد کے پانچ گاؤں ان کی جڑی جاگیر کے ان کو واپس کر دیئے۔اس وقت وہ رنجیت سنگھ کی فوج میں نمایاں خدمات بھی کر چکے تھے۔اور ان کا حق بھی ایک طرح دوبارہ قائم ہو گیا تھا۔پس اس حساب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۳۴ ۱۸۳۳ء کے قریب ماننی پڑتی ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ آپ کے مخالفین آپ کی عمر کے متعلق کیا کچھ کہتے ہیں۔لیکھرام کا جو حوالہ سید احمد علی صاحب نے درج کیا ہے۔اس کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۶ء بنتی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے حوالوں سے ۱۸۲۹ء اور ۱۸۳۳ء پیدائش کے سن نکلتے ہیں۔لیکن میرے نزدیک ان سے بڑھ کر جس مخالف کا علم ہونا چاہئے۔وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں۔جن کو بچپن سے ہی آپ سے ملنے کا موقعہ ملتا رہا ہے۔ان کے اشاعت السنہ ۱۸۹۳ء کے حوالہ سے آپ کی پیدائش ۱۸۳۰ء کے قریب بنتی ہے۔غرض ۱۸۳۶ ء انتہائی حد ہے۔اس کے بعد کا کوئی سن ولادت تجویز نہیں کیا جاسکتا۔بحیثیت مجموعی زیاده تر میلان ۱۸۳۳ء اور ۱۸۳۴ء کی طرف معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ شرف مکالمہ مخاطبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ معین ہیں۔اور یہ واقعی ایک اہم واقعہ ہے۔جس پر تاریخ پیدائش کی بنیا د رکھی جا سکتی ہے۔۱۲۹۰ ھ ایک تاریخ ہے اور اس حساب سے ۱۸۳۳ء کی پیدائش ثابت ہوتی ہے۔دوسرا اہم واقعہ آپ کے والد ماجد کے انتقال کا ہے۔انسانی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت کے متعلق جو رائے ہے وہ بھی زیادہ وزن دار مجھنی چاہئے۔سو اس کے متعلق آپ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ والد ماجد کی وفات کے وقت آپ کی عمر چالیس سال کے قریب تھی۔اور اپنے والد صاحب کی وفات ۱۸۷۴ء میں معین فرما دی۔خلاصہ میرے نزدیک یہ نکلا کہ ۳۴ ۱۸۳۳ء صحیح ولادت قرار دیا جاسکتا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بالصَّواب اس جگہ در دصاحب کا مضمون ختم ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرمی مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے مبلغ لندن نے یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر اور تاریخ پیدائش کی تعیین کے متعلق لندن سے ارسال کیا تھا اور یہی مضمون