سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 704
سیرت المہدی دیا جاسکتا۔704 حصہ سوم کتاب البریہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔”میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے انکے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا اسی طرح آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ صفحہ ۵۴۳ ۵۴۴ پر بھی آپ یہی فرماتے ہیں۔”سو اس کے متعلق تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۸۱۶ء کے قریب راجہ رنجیت سنگھ نے رام گڑھیوں کو زیر کر کے ان کا تمام علاقہ اپنے قبضہ میں کر لیا تھا۔یعنی قادیان رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آ گیا تھا ( سیرۃ المہدی حصہ اول روایت نمبر ۱۲۹) اور پنجاب چیفس میں لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی تمام جا گیر پر قابض ہو گیا۔غلام مرتضیٰ کو واپس بلا لیا۔اور اس کی جڑی جاگیر کا ایک معقول حصہ اُسے واپس کر دیا۔اس پر غلام مرتضے اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں شامل ہو گیا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام مرتضے صاحب مرحوم کشمیر کی فتح کے وقت رنجیت سنگھ کی فوج میں شامل تھے۔کشمیر ۱۸۱۹ء میں فتح ہوا۔اس لئے معلوم یہ ہوتا ہے۔کہ گومرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم قادیان میں واپس آگئے تھے۔مگر قادیان کے اردگرد کے گاؤں ابھی تک نہیں ملے تھے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضے قادیان میں واپس آئے۔اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے۔کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کود با کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی۔سو ہمارے دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لدھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا۔“ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۶،۱۷۵ حاشیه ) پشاور ۱۸۲۳ء میں رنجیت سنگھ کے ماتحت آیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مصائب کا سلسلہ گوختم ہو گیا تھا مگر ابھی فراخی نہیں شروع ہوئی تھی۔مرزا غلام مرتضے صاحب مرحوم کو اکثر فوجی خدمات پر باہر رہنا پڑتا ہوگا اور گھر کا گزارہ تنگی ترشی سے ہوتا ہوگا۔حتی کہ غالبا ۱۸۳۳ء کے قریب انہوں نے کشمیر