سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 697 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 697

سیرت المہدی 697 حصہ سوم السلام کو مائی صاحب جان صاحبہ زوجہ مرزا غلام حیدر صاحب نے دودھ پلایا تھا۔مرزا غلام حیدر صاحب حضرت صاحب کے حقیقی چچا تھے۔مگر جب مرزا نظام الدین صاحب اور ان کے بھائی حضرت صاحب کے مخالف ہو گئے تو مائی صاحب جان بھی مخالف ہو گئی تھیں۔اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس زمانہ میں وہ اس قدر مخالف تھیں کہ مجھے دیکھ کر وہ چھپ جایا کرتی تھیں اور سامنے نہیں آتی تھیں۔نیز مجھ سے والدہ صاحبہ عزیزم مرزا رشید احمد نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو ماں کے سوا دوسرے کا دودھ پلانے کی اس لئے ضرورت پیش آئی تھی کہ آپ جوڑا پیدا ہوئے تھے اور چونکہ آپ کی والدہ صاحبہ کا دودھ دونوں بچوں کے لئے مکتفی نہیں ہوتا تھا۔اس لئے مائی صاحب جان نے دودھ پلانا شروع کر دیا تھا۔761 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بھائی عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں شروع شروع میں سکھ مذہب کو ترک کر کے مسلمان ہوا۔اور یہ غالباً ۱۸۹۳ء کا واقعہ ہے۔تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے سپر دفرمایا تھا۔اور مولوی صاحب کو ارشاد فرمایا تھا کہ مجھے دینی تعلیم دیں اور خیال رکھیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے مجھے پڑھانا شروع کر دیا۔اور حضرت صاحب کے ارشاد کی وجہ سے مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر گھر میں کھانا کھلایا کرتے تھے۔کچھ۔عرصہ کے بعد میں نے عرض کیا کہ آپ کو میرے آنے کی وجہ سے پردہ کی تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے مجھے اجازت دیں کہ میں لنگر میں کھانا شروع کر دوں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔نہیں ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔پھر جب میں نے اصرار کیا۔تو فرمایا۔تمہیں یاد نہیں؟ حضرت صاحب نے مجھے تمہارے متعلق کس طرح تاکید کی تھی۔اب دیکھنا مجھے گناہ نہ ہو۔میں نے کہا نہیں گناہ نہیں ہوتا۔میں خود خوشی سے لنگر میں کھانا کھانا چاہتا ہوں۔اس پر آپ نے مجھے اجازت دیدی۔پھر جب کچھ عرصہ بعد میر اوقت مدرسہ میں لگ گیا۔اور مجھے کچھ معاوضہ ملنے لگا۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا۔کہ آپ مجھے اجازت دیں۔کہ میں اپنے کھانے کا الگ انتظام کرلوں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔نہیں آپ لنگر سے کھاتے رہیں اور جو آمد ہوتی ہے۔اسے اپنی دوسری ضروریات میں خرچ کر لیا کریں۔مگر میرے اصرار پر فرمایا۔کہ