سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 698 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 698

سیرت المہدی 698 حصہ سوم اچھا آپ کو اصرار ہے تو ایسا کر لیں۔گو ہماری خوشی تو یہی تھی کہ آپ لنگر سے کھانا کھاتے رہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھائی صاحب موصوف مدرسہ میں ایک لمبی ملازمت کے بعد اب پینشن پر ریٹائر ہو چکے ہیں۔اور کچھ عرصہ نواب محمد علی خانصاحب کے پاس بھی ملازم رہے ہیں۔بہت نیک اور صالح بزرگ ہیں۔762 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بھائی عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں مسلمان ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد جبکہ میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں دبارہا تھا۔حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔تم شادی کیوں نہیں کر لیتے۔میں نے کہا۔حضرت میری تو کوئی گزارہ کی صورت نہیں ہے۔میں شادی کیسے کروں۔اور میں ابھی پڑھتا بھی ہوں۔فرمایا نہیں تم شادی کرلو۔خدا رازق ہے۔میں نے شرماتے ہوئے کہا۔کہاں کرلوں؟ فرمایا کہ جو مرزا افضل بیگ قصور والے کی بہن بیوہ ہوئی ہے اس سے کرلو۔میں نے عرض کیا۔حضرت وہ تو بیوہ ہے۔فرمایا۔تو کیا ہرج ہے۔ابھی اس کی عمر زیادہ نہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیوہ عورتوں سے شادی کی ہے۔مگر مجھے دل میں انقباض تھا۔آخر حضرت صاحب کا اصرار دیکھ کر میں راضی ہو گیا۔اور خدا کے فضل سے میں نے اس شادی سے ایسا سکھ پایا کہ شاید ہی کسی نے پایا ہوگا۔763 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے مبلغ انگلستان نے مجھے ایک مضمون لکھ کر لندن سے ارسال کیا تھا۔اس مضمون میں وہ حضرت مسیح موعود کی عمر کی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔الفضل مورخہ اار جون ۱۹۳۳ء میں سید احمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر کے متعلق بہت سے مفید حوالے جمع کئے ہیں اور مکر می مولوی اللہ دتا صاحب نے اپنی کتاب تفهـــمــاتِ ربانیہ میں ص۱۰۰ سے ص ۱۱۲ تک آپ کی عمر کے متعلق عالمانہ بحث کی ہے۔لیکن دونوں صاحبوں نے دراصل مخالفین کے اعتراضات کو مدنظر رکھا ہے۔سید صاحب نے اہلحدیث مجریہ ۲۶ مئی ۱۹۳۳ء اور