سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 696 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 696

سیرت المہدی 696 حصہ سوم کرتے تھے۔سردی میں موزے پہنتے تھے۔انگریزی جوتی نہ پہنتے تھے۔بلکہ دیسی جوتی ہی استعمال کرتے تھے۔جس کمرہ میں آپ رہتے تھے۔اسی میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ایک گھڑا پانی کا پاس ہوتا تھا۔رہائش کے کمرہ میں ایک دری ہوتی تھی۔صرف ایک چار پائی باہر ہوتی تھی۔میں نے مرزا صاحب کو کبھی لیٹے ہوئے نہیں دیکھا“۔یہاں پنڈت دیوی رام صاحب کا بیان ختم ہوتا ہے۔اور اس کے نیچے ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ نوٹ درج ہے:۔سن کر درست تسلیم کیا۔میں نے مندرجہ بالا بیان خدا کو حاضر و ناظر جان کر درست اور صحیح تحریر کرا دیا ہے۔اس میں کوئی خلاف واقعہ یا مغالطہ نہیں“۔گواه شد محمد منیر از هر دور واله ( دستخط) پنڈت دیوی رام بقلم خود ریٹائر ڈمدرس و سابق مدرس قادیان حال آپ پر دھان آریہ سماج دو دو چک تحصیل شکر گڑھ حال وارد قصبه دود و چک ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنڈت دیوی رام صاحب کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت صاحب موصوف سمجھدار اور فہیم اور صداقت پسند انسان ہیں۔کیونکہ بار یک بار یک باتوں کو دیکھا اور یادرکھا ہے اور بلاخوف اظہار کر دیا ہے۔اور فی الجملہ ساری روایت بہت صحیح اور درست ہے۔مگر کہیں کہیں پنڈت صاحب کو خفیف سی غلطی لگ گئی ہے۔مثلاً عمر کا اندازہ غلط ہے۔لیکن غور کیا جائے تو اتنی لمبی روایت میں جو عرصہ دراز کے واقعات پر مشتمل ہو۔خفیف غلطی روایت کے وزن کو بڑھانے والی ہوتی ہے نہ کہ کم کرنے والی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بیان ۱۹۳۵ء میں لکھا گیا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت جو ۱۹۳۹ء ہے پنڈت صاحب زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں۔روایت واقعی خوب ہے۔760 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ