سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 695 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 695

سیرت المہدی 695 حصہ سوم پٹواری رشوت کے الزام میں قید ہو گیا تھا۔ان دنوں نیکی۔تقویٰ اور طہارت میں مرزا غلام احمد صاحب اور مرزا کمال الدین صاحب اور میر عابد علی مسلمانوں میں مشہور تھے۔مرزا کمال الدین فقیری طریقہ پر تھے۔معلوم نہیں کہ وہ نماز کب پڑھا کرتے تھے۔مگر مرزا غلام احمد صاحب کو ہم نے پنجوقت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔مرزا صاحب گوشہ نشین تھے۔ہمیشہ مطالعہ اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔کتب کی تصانیف اور اخبار کے مضامین بھی تحریر فرماتے تھے۔میرے ساتھ مرزا صاحب کے تعلقات دوستانہ تھے۔آپ بڑے خندہ پیشانی سے ملنے والے۔خوش خلق حلیم الطبع منکسر المزاج تھے۔تکبر کرنا نہ آتا تھا۔طبیعت نرم تھی۔خاندان کے دوسرے افراد طبیعت کے سخت اور تند تھے۔مرزا نظام الدین اور امام الدین صاحبان کا چلن ٹھیک نہ تھا۔نماز روزہ کی طرف راغب نہ تھے۔تمام خاندان میں سے صرف مرزا غلام احمد صاحب کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔مرزا کمال الدین تارک الدنیا تھے۔مرزا نظام الدین اور امام الدین میں تمام دُنیا کے عیب تھے۔میری موجودگی میں مرزا غلام احمد صاحب نے کبھی کوئی عیب نہیں کیا اور نہ کبھی میں نے اس وقت سُنا تھا۔صرف ایک سکھ کو مسلمان کر دیا تھا۔یہ عیب ہے۔اس کے سوا میں نے کوئی عیب نہ دیکھا ہے اور نہ سُنا ہے۔مرزا صاحب خوش شکل جوان تھے۔خوبصورت اور میانہ قد کے تھے۔سر پر پٹے تھے۔مرزا صاحب بوقت کلام تھوڑا ساڑک جاتے تھے۔یعنی معمولی سی لکنت تھی۔مگر کلام کے سلسلہ میں کوئی فرق نہ آتا تھا۔اور آپ کا رکنا غیر موزوں نہ تھا۔تحریر میں زبر دست روانی تھی۔صاحب قلم اور سلطان القلم تھے۔کلام پُر تاثیر تھی۔پیشانی کشادہ تھی۔داڑھی چار انگشت کے قریب بھی تھی۔سر پر کبھی ٹوپی نہ پہنتے تھے۔ہاں سفید پگڑی یا لنگی پہنتے تھے۔چونہ پہنتے تھے۔اور گزارہ (یعنی غرارہ) بھی پہنتے تھے۔تہہ بند بہت کم نہانے کے وقت پہنتے تھے۔میں نے مرزا صاحب کو کبھی ننگے نہیں دیکھا۔تین کپڑے ہمیشہ بدن پر رکھتے تھے مسجد میں چوغہ پہن کر آتے تھے۔گھر کی ضروریات کا انتظام نہ خود کرتے تھے اور نہ دخل دیتے تھے۔مرزا سلطان احمدیا ان کے بھائی وغیرہ کرتے تھے۔میں نے مرزا صاحب کو کبھی بیوی کا زیور یا کپڑے بنواتے یا منگواتے نہ دیکھا نہ سُنا ہے۔کپڑا ہمیشہ سادہ موسم کے لحاظ سے ہوا کرتا تھا۔سردی میں کبھی سیاہ رنگ کا چوغہ استعمال