سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 694
سیرت المہدی 694 حصہ سوم ایک دفعہ میں نے سوال کیا تھا کہ ارواح ایک دفعہ ہی پیدا کر دی گئی تھیں یا مختلف وقتوں میں پیدا ہوتی ہیں۔اس کا جواب مجھے یاد نہیں رہا۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے سوال کیا کہ اگر تمام ارواح مکتی پائینگی۔تو خدا کا خزانہ خالی ہو جائے گا۔تو پھر خدا بے کار بیٹھے گا ؟ اسی طرح ایک اور سوال کیا کہ خدا قادر ہے۔کیا وہ کوئی اور خدا پیدا کر سکتا ہے۔جواب فرمایا نہیں، میں نے کہا۔تب خدا کی قادریت ٹوٹ جاتی ہے۔فرمایا نہیں۔کیونکہ اس کی صفت وخـــــد لاشریک کے خلاف ہے۔اس لئے یہ نہیں ہوسکتا۔مرزا صاحب شرکاء کو ذلیل کرنانہ چاہتے تھے اور نہ ہی کسی کی بُرائی چاہتے تھے۔شرکاء گھر میں بھی مرزا صاحب کی عزت کرتے تھے۔بحث کے متعلق جو میں آپ سے کبھی کبھی سوالاً جواباً کیا کرتا تھا۔فرمایا۔کہ دو خطوط متوازی لیں خواہ ان کو کتنی دور تک بڑھاتے چلے جاؤ وہ کبھی نہ ملیں گے۔اسی طرح بحث کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔مرزا ساحب منطق بھی جانتے تھے اور سکول میں کوئی جماعت نہ پڑھے ہوئے تھے۔میں نے مرزا صاحب کو نہ کبھی بدنظری کرتے دیکھا اور نہ سُنا۔بلکہ وہ بد نظری کو نا پسند فرماتے اور دوسروں کو روکتے تھے۔ہمیشہ ادب کا لحاظ رکھتے تھے اور زائرین کی عزت و تکریم کرتے تھے۔جب کبھی کوئی چیز منگواتے ، پیسے پہلے دیا کرتے تھے۔مرزا صاحب چشم پوش تھے۔کبھی کسی میلہ یا تماشہ یا کسی اور مجلس میں نہ جایا کرتے۔بلکہ ان کے بیٹے شرم کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آتے تھے۔نوکروں کے ساتھ مساوات کا سلوک کرتے تھے۔ان دنوں مرزا صاحب اکیلے صبح سویرے اور شام کو سیر کو جایا کرتے تھے۔میں نے ان کو پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھتے دیکھا ہے۔گھر سے چھوٹی سی گلی مسجد کو جاتی تھی۔اس راستہ سے گذر کر مسجد میں جاتے تھے۔صرف اکیلے ہی ہوا کرتے تھے۔اگر دو تین ہو جاتے تو مرزا صاحب جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے اور اگرا کیلے ہوتے تو اکیلے ہی پڑھ لیتے۔ان دنوں قادیان میں مسلمان عموماً بے نماز تھے۔قمار بازی میں مشغول رہتے تھے۔مسلمانوں کی آبادی کم تھی۔ان دنوں بڑھا فقیر چور مشہور تھا اور نہالہ برہمن اور خوشحال چند۔یہ دونوں مقدمہ باز مشہور تھے۔نہالہ برہمن نے اپنی دونوں لڑکیاں چوری کے الزام میں قید کر وادی تھیں۔خوشحال چند