سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 693
سیرت المہدی 693 حصہ سوم اور مرزا صاحب بہ تحمیل تا بعداری فوراً بخوشی چلے جاتے تھے۔مرزا صاحب اپنے والد صاحب کے کامل فرمانبردار تھے۔مقدمہ پر لا چاری امر میں جاتے تھے۔اور کسی آدمی کی نظر میں گرے ہوئے نہ تھے۔اور مذہبی بحث میں ایک شیر ببر کی طرح ہوشیار ہو جاتے تھے۔شائستگی اور نرمی اور شیریں کلامی سے بات کیا کرتے تھے۔طبع کے علیم اور بردبار تھے۔میں نے مرزا صاحب کی طبیعت میں کبھی غصہ نہیں دیکھا۔مرزا صاحب بے نماز بھائی بندوں اور دیگر لوگوں سے نفرت کیا کرتے تھے۔مستورات کو ہمیشہ نماز کی تلقین کیا کرتے۔جھوٹ سے ہمیشہ نفرت کرتے تھے۔والد صاحب کے ساتھ کبھی کبھی ضرورت کے وقت بات کرتے اور مرزا سلطان احمد کے ساتھ بھی اسی طرح کبھی کبھی ضرورت کے وقت گفتگو کرتے تھے۔میں نے کبھی نہیں سنا تھا کہ مرزا صاحب کو دُنیا سے محبت ہے۔نہ ہی اولاد سے دنیاوی محبت کرتے سُنا ہے۔مرزا صاحب نے والد ماجد کی وفات پر کسی قسم کے رنج یا افسوس یا غصہ کا اظہار نہ کیا تھا اور نہ ہی کسی جزع فزع کا اظہار کیا تھا۔مرزا غلام احمد صاحب کی نسبت میں نے کبھی نہیں سنا تھا کہ انہوں نے چھوٹی عمر میں کوئی بُرا کام خلاف شریعت یا مذہب کیا ہو اور نہ ہی دیکھا تھا۔عام شہرت ان کے متعلق اچھی تھی۔مرزا صاحب کو سنگترہ اور آم اور بھونے ہوئے دانے پسند تھے۔حلوائی کی چیز کو کھاتے ہوئے میں نے کبھی نہ دیکھا۔روٹی کھایا کرتے تھے اور روٹی موٹی ہوتی تھی۔میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ میرے روبرو رفع یدین - آمین بالجہر۔ہاتھ باندھنے کے متعلق ہتکبیر پڑھنے کے متعلق بحث ہوتی کہ آیا یہ امور جائز ہیں یا نا جائز ہیں۔ان ایام میں آپ کے دوست کشن سنگھ کنگھی گھاڑا۔شرم پت اور ملاوائل تھے۔اور یہ لوگ مرزا صاحب کے پاس کبھی کبھی آتے میں نے ایک مرتبہ مرزا صاحب سے سوال کیا کہ دنیا واجب الوجود ہے یا ممکن الوجود۔آپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ ظہورِ رہی ہے۔میں نے کہا کہ ظہور کتنی قسم کا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا۔دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ذہنی اور ایک خارجی۔ذہنی کی مثال دی کہ کسی نے نظم بنادی۔کسی نے برتن بنادیا۔کسی نے نقش بنا دیا۔خارجی یہ کہ مادہ سے کوئی چیز لے کر دوسری شکل بنادینا۔