سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 692 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 692

سیرت المہدی 692 حصہ سوم لیں۔اور واپس چلا آیا۔مرزا صاحب نے سوال حکماء کا یہ جواب دیا کہ جس وقت نطفہ رحم میں داخل ہوتا ہے۔کل اجزائے بدن اس میں گر جاتے ہیں۔اور اپنی اپنی مدتوں پر جیسے کہ قدرت ہے بڑھتے رہتے ہیں۔اور وہ مادہ جو کہ بازوؤں کی طرف آتا ہے چلتے چلتے کسی خاص وجہ سے رک جائے اور وہ منتشر ہوکر دو جگہ پر تقسیم ہو کر پڑ جاتا ہے جیسا کہ پانی آتے آتے کسی تھوڑی سے رکاوٹ یا اونچائی کے سبب دوحصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ویسے ہی اس مادہ کی خاصیت ہے۔کبھی نر انگشت کی طرف رکاوٹ ہوگئی۔تو دو حصے ہو گئے اور کبھی چھنگلی کی طرف رکاوٹ ہوئی تو وہ دو ہوگئیں۔مگر مرزا صاحب کے سوال کا جواب حکماء نے نہ دیا۔نواب صاحب کی بیماری جسم میں جوؤں کی تھی اور مرزا صاحب کی شہرت حکمت یارقند سے سُن کر حکماء نے بلوایا تھا۔مرزا غلام احمد صاحب کی غذا سادہ ہوتی تھی۔آپ کے نوکر کا نام جان محمد تھا اور آپ کے استاد کا نام گل محمد تھا جو نہیں روپیہ ماہوار پر دونوں بھائیوں کو پڑھایا کرتے تھے۔مرزا صاحب کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور شریفانہ برتاؤ تھا۔خندہ پیشانی سے پیش آتے۔متواضع اور مہمان نواز تھے۔کبھی کبھی دیگ پکوا کر غرباء اور مساکین کو کھلاتے تھے۔حکمت کی اجرت نہ لیتے تھے اور نسخہ لکھ کر بھا وامل برہمن پنساری کی دکان پر سے دوائی لانے کے لئے کہتے تھے۔مرزا صاحب کا ہندوؤں کے ساتھ مشفقانہ تعلق تھا۔مرزا صاحب ہر وقت مذہبی کتب و اخبارات کا مطالعہ کرتے اور انہیں دنیا کی اشیاء میں سے مذہب کے ساتھ محبت تھی۔مرزا صاحب کی خدمت میں ایک لڑکا عنایت بیگ تھا۔اس کو میرے پاس پڑھنے کے لئے بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اس کو دوسرے لڑکوں سے علیحدہ رکھنا تا کہ اس کے کان میں دوسرے لڑکوں کی بُری باتیں نہ پڑیں۔اور یہ عادات قبیحہ کو اختیار نہ کر لے۔مرزا صاحب بازار میں کبھی نہ آتے تھے صرف مسجد تک آتے تھے اور نہ کسی دکان پر بیٹھتے تھے۔مسجد یا حجرہ میں رہتے تھے۔مرزا صاحب کے والد صاحب آپ کو کہتے تھے کہ ”غلام احمدتم کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے۔اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں۔جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگارہتا ہے۔اگر کسی کی تاریخ مقدمہ پر جانا ہوتا تھا تو آپ کے والد صاحب آپ کو مختار نامہ دیدیا کرتے تھے