سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 680 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 680

سیرت المہدی 680 حصہ سوم کو جہلم آنا پڑے گا۔مگر خدا کی قدرت کہ اس کے بعد مقدمہ ہی گورداسپور میں تبدیل ہو گیا۔پھر حضور کو جہلم نہ جانا پڑا۔اس کے بعد جہلم میں میری سخت مخالفت ہوئی۔میں نے قادیان آ کر حضور سے افریقہ جانے کی اجازت طلب کی۔حضور نے فرمایا۔کہ جب انسان سچائی قبول کر لیتا ہے تو پہلے ضرور ابتلاء آتے ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ کس قد را بتلاؤں میں مبتلا کرنے والا ہوتا ہے۔اس لئے مجھے ڈر ہے کہ باہر کہیں اس سے زیادہ ابتلاء نہ آجائے۔میرے خیال میں آپ صبر سے کام لیں۔اللہ تعالیٰ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔کچھ عرصہ کے بعد ہمارے ایک دوست نبی بخش افریقہ سے آئے۔میں نے اُن سے حالات کا تذکرہ کیا۔وہ مجھے افریقہ لے جانے پر رضا مند ہو گئے۔اس وقت میں نے حضور سے پوچھا اور حضور نے اجازت دیدی اور میں ان کے ہمراہ چلا گیا اور خدا نے وہاں مجھے بیوی اور بچے بھی دیئے اور ہر طرح سے اپنا فضل کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سفر جہلم ۱۹۰۳ء میں ہوا تھا۔754 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ عبد الحق صاحب ولد شیخ عبداللہ صاحب ساکن وڈالہ بانگر تحصیل گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ غالبا اس جلسہ سالانہ کا ذکر ہے۔جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد اقصے میں اپنی تقریر میں اپنے آپ کو ذوالقر نین ثابت کیا تھا۔جلسہ کے بعد ایک ایرانی بزرگ مسجد کے صحن میں حضرت خلیفتہ اسیح اول کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور بزبان فارسی حضور سے سلسلہ کلام شروع تھا۔اور چند آدمی حلقہ کئے ہوئے وہاں اس بزرگ کی گفتگوسُن رہے تھے۔خاکسار بھی شامل ہو گیا۔کافی عرصہ تک یہ سلسلہ کلام جاری رہا۔چونکہ سامعین میں سے اکثر فارسی نہ سمجھتے تھے۔اس لئے ایک دوست نے کسی دوست کو کہا کہ آپ تو فارسی کلام اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے ذرا ہمیں بھی مطلب سمجھا دیں۔چنانچہ اس دوست نے پنجابی میں وہ کلام سُنا دی۔جس کا ماحصل یہ تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے اس ایرانی بزرگ سے دریافت کیا۔کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔جواب ملا کہ شیراز کا باشندہ ہوں۔پھر آپ نے دریافت فرمایا۔کہ آپ یہاں کیسے تشریف لائے۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب آپ کو پہنچی ہیں یا وہاں احمد یہ جماعت کا کوئی فرد پہنچ گیا تھا جس نے آپ کو حضور کے دعوئی کی تبلیغ کی؟ ایرانی