سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 679
سیرت المہدی 679 حصہ سوم حضور تبر کا ایک لقمہ ہی اٹھا لیں۔اس پر آپ نے چند دانے چاولوں کے اٹھا کر منہ میں ڈالے۔باقی چاول ہم لوگوں نے تبرک کے طور پر تقسیم کر لئے۔دوسرے دن جب ڈپٹی سنسار چند کے سامنے وکلاء کی تقاریر ہوئیں۔تو ساڑھے چار بجے واپسی پر غلام حیدر صاحب تحصیلدار نے حضور سے کہا کہ آج خواجہ کمال الدین صاحب نے بہت عمدہ تقریر کی ہے ( خواجہ صاحب بھی اس وقت ساتھ ہی تھے ) حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ ابھی کیا ہے، آئندہ خواجہ صاحب کی اور بھی اچھی تقریر ہوگی۔سوہم نے دیکھا کہ بعد میں خواجہ صاحب کی تقریر حضور کی دُعا کے مطابق بہت قابل تعریف ہوتی تھی۔مگر افسوس کہ خواجہ صاحب نے اسے اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھا اور خلیفہ اول کی وفات پر ٹھوکر کھا کر خلافت سے الگ ہو گئے۔جہلم میں حضور کے ساتھ شہزادہ مولوی عبداللطیف صاحب شہید بھی تھے۔حضور احاطہ کچہری میں ان کے ساتھ فارسی میں گفتگو فرمارہے تھے اور اردگر دلوگوں کا ہجوم تھا۔ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور اردو میں تقریر فرمائیں تا کہ عام لوگوں کو بھی کچھ فائدہ ہو۔اس پر حضور نے اردو میں تقریر شروع کر دی۔آپ نے فرمایا۔مسلمانوں کے تمام فرقے مہدی کے منتظر ہیں۔مگر مہدی نے تو بہر حال ایک شخص ہی ہونا تھا اور وہ میں ہوں۔اگر میں شیعوں کو کہوں کہ میں تمہارا مہدی ہوں جو کچھ تمہاری روایات میں درج ہے۔وہ صحیح ہے اور اسی طرح سنیوں اور وہابیوں کو بھی کہوں تا کہ سب مجھ سے راضی ہو جائیں تو یہ ایک منافقت ہے۔ان کو اتنا معلوم نہیں کہ مہدی کا نام حکم عدل ہے۔وہ تو سب فرقوں کا صحیح فیصلہ کرے گا۔جس کی غلطی ہوگی اس کو بتائے گا تب وہ سچا ہو گا۔بس یہی وجہ ہے کہ سب فرقے ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ورنہ ہم نے ان کا اور کیا نقصان کیا ہے اور حضور دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔اسی روز حضور نے کوٹھی پر عورتوں میں بھی ایک تقریر فرمائی۔جس میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو میں نے جو تم کو نصیحت کی ہے یہ میری آخری نصیحت ہے جس طرح کوئی مرنیوالا اپنے لواحقین کو آخری وصیت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اب میں واپس لوٹ کر نہ آؤں گا۔اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ تم پھر مجھے اس شہر میں نہ دیکھو گے۔اس لئے تم کو چاہئے کہ میری نصیحت کو دل کے کانوں سے سنو۔اور اس پر عمل کرو۔چنانچہ ابھی مقدمہ کی پہلی ہی تاریخ تھی اور کسی کو پتہ نہ تھا کہ کتنی اور پیشیاں ہوں گی اور کتنی مرتبہ حضور