سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 681
سیرت المہدی 681 حصہ سوم بزرگ نے جواب دیا کہ نہ تو کوئی کتاب پہنچی تھی اور نہ ہی کسی مبلغ نے مجھے تبلیغ کی ہے۔میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔اور یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ بعد نماز تہجد کشف میں نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ایسی حالت میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب ایک اور بزرگ اسی تخت نورانی پر جس پر آنحضرت جلوہ افروز تھے ہمنشین ہیں۔اور اس بزرگ کی شکل و شباہت حضور علیہ السلام سے تقریباً ملتی جلتی ہے۔میں نے آنحضرت سے عرض کیا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ امام مہدی علیہ السلام ہیں۔جو آج کل قادیان میں نازل ہو چکے ہیں۔اس ارشاد نبوی کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اور میں اس تلاش میں لگ گیا۔کہ قادیان کا پتہ چلے۔چنانچہ بڑی کوشش کے بعد معلوم ہوا کہ پنجاب میں لاہور کے قریب ایک گاؤں قادیان ہے اور وہاں ایک شخص نے دعویٰ مہدویت کیا ہے۔اس مکاشفہ کی بناء پر میں یہاں پہنچ گیا ہوں۔اور جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا شرف نیاز حاصل کیا تو دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی بزرگ ہیں جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔6755 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی مسیح موعود کے جلد بعد بیعت میں داخل ہوئے تھے۔اور ابتداء میں ہر طرح کا جوش اور اخلاص دکھاتے تھے۔چنانچہ ازالہ اوہام میں حضرت صاحب نے ان کا ذکر بھی کیا ہے۔وہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بہت عزیز دوست تھے۔ان کو نہ آتھم کے زلزلہ کے وقت ابتلاء آیا اور نہ محمدی بیگم کے نکاح کے فسخ کے وقت ابتلاء آیا۔بلکہ ابتلاء آیا تو عجیب طرح آیا۔یعنی حضرت صاحب جب چولہ صاحب دیکھنے کے لئے ڈیرہ بابانا نک تشریف لے گئے اور پھر ست بچن لکھنے کا ارادہ فرمایا۔تو ان صاحب نے یہ خیال ظاہر کیا۔کہ واہ یہ خوب مسیح اور مہدی ہیں جو ایسی فضول باتوں کے لئے دوڑے بھاگے پھرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ بابا نانک مسلمان تھے۔یہ کام ایسے عہدہ کے شایان نہیں۔غرضیکہ وہ پھر ایسے الگ ہوئے کہ مرتے دم تک ادھر رُخ نہ کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ فصیح صاحب آتھم والے مناظرہ میں ہماری طرف سے پریذیڈنٹ مقرر