سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 660 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 660

سیرت المہدی 660 حصہ سوم کے ساتھ آپ نے اپنی روئیداد اور حالات قلمبند کر کے بھیجا ہے، تمام کیفیت واضح ہوئی۔چاہیئے کہ آپ ہر بات میں مطمئن اور خاطر جمع ہو کر اپنے متعلقہ امور میں مشغول رہیں اور اپنے روزمرہ کے حالات لکھتے رہیں۔محرره ماه رجب ۱۲۱۶ ہجری مہر ان خطوط کے متعلق مولوی عبید اللہ صاحب بسمل نے مندرجہ ذیل نوٹ لکھا ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم شہنشاہ ہندمحمد فرخ سیر کے منشور میں جو غفران مآب میرزا فیض محمد خانصاحب نوراللہ مرقدہ کے نام ہے تین لفظ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پہلا لفظ ہفت ہزاری کا ہے۔در باراکبری میں اراکین سلطنت کے مناصب کی تقسیم اس طرح سے شروع ہوتی تھی۔کہ ہشت ہزاری کا منصب ولیعہد اور خاندانِ شاہی کے شہزادوں کے لئے خاص تھا۔اور اراکین در بار ووزراء سلطنت ہفت ہزاری منصب سے ممتاز ہوتے تھے۔شش ہزاری منصب بھی امراء کو بہت جاں نثاری کے بعد ملتا تھا۔جس وقت گل گنڈہ کے فرمانروا ابوالحسن تانا شاہ کی سرکوبی پر شہنشاہ اورنگ زیب محمد عالمگیر نے تمام افواج ہندوستان کے سپہ سالا نواب غازی الدین خان بہا در فیروز جنگ کو دکن کی مہم سر کرنے کے لئے مامور فرمایا۔تو اس کوشش ہزاری کا عہدہ دیا۔چنانچہ اس وقت کا نامہ نگار نعمت خاں متخلص بہ عالی اپنی مشہور کتاب وقائع نعمت خاں میں لکھتا ہے۔دوششے کہ آں شش هزاری شش هزار سوار زدہ بود اس فقرہ میں شش ہزاری کے لفظ سے مطلب ہے۔کہ فیروز جنگ کو عالمگیر نے یہ منصب دیا ہوا تھا۔جو ہفت ہزاری سے بہت ہی کم تھا۔ہفت ہزاری منصب کی نسبت شاہانِ مغلیہ کے عہد میں ایک ضرب المثل مشہور تھی۔ہفت ہزاری شو و ہر چہ خواہی بکن یعنے ہفت ہزاری کا منصب ایسا عالی ہے کہ اگر تجھ کو حاصل ہو جائے تو تیرے کام میں کوئی دخل دینے والا نہیں رہے گا۔الحاصل ہفت ہزاری کا منصب شاہانِ