سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 661 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 661

سیرت المہدی 661 حصہ سوم مغلیہ کے عہد میں بہت وقیع ورفیع سمجھا جاتا تھا۔تاریخ شاہد ہے۔دوسرا لفظ عضد الدولہ کا خطاب ہے۔تاریخ کی ورق گردانی سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ہارون و مامون و معتصم کے بعد بنی عباس کی خلافت میں ضعف آ گیا۔اور اسلامی دُنیا کے بعض حصوں میں متفرق خاندانوں میں حکومتیں بر پا ہوگئیں تو ان میں سے دیالمہ کا خاندان بھی تھا۔جس کے چمکتے ہوئے فرمانرواؤں کو استمالت قلوب کی وجہ سے خلافتِ بغداد کے دربار نے عضد الدولہ اور اس کے بیٹے کو رکن الدولہ کا خطاب دیا تھا۔غالباً اسلامی تاریخ میں عضدالدوله دیلمی ہی پہلا شخص ہے جس نے یہ معزز خطاب حاصل کیا ہے۔اس کے بعد سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کو خلیفہ بغداد نے یمین الدولہ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ایرانی سلطنتیں بھی خلفائے بنی عباس کی اتباع سے اپنے امراء در بار کو اعتصا والدولہ۔احتشام الدولہ وغیرہ کے خطابات دیتی رہی ہیں۔ہندوستان کی افغانی کنگڈم بھی علاء الملک - عماد الملک۔خان جہاں۔خان دوراں کے خطابات سے اپنے اپنے امراء ورؤساء کی دلجوئی کرتی رہی ہیں۔مغل ایمپائر کے زرین عہد میں فرمانروایان اودھ کو شاہ عالم ثانی کی سرکار سے شجاع الدولہ اور آصف الدولہ کا خطاب ملا ہے۔شاہ اکبرثانی نے سرسید کو جوادالدولہ عارف جنگ کا خطاب دیا تھا۔جس کو سرسید کے ارادت مند آج تک اُن کے ساتھ لکھتے چلے آئے ہیں۔سرکار کمپنی نے بھی بغرض تالیف قلوب باتباع شاہان مغلیہ والیان ٹونک کو امیر الدولہ اور ان کے بیٹے کو وزیر الدولہ کا خطاب دیا تھا۔اس داستان باستان کو طول دینے سے خاکسار کی غرض صرف یہ ہے کہ شہنشاہ فرخ سیر کا منشور جو غفران مآب میرزا فیض محمد خانصاحب طاب اللہ شاہ کے نام ہے جس میں انکو عضد الدولہ کے خطاب سے مخاطب کیا گیا ہے۔وہ والیانِ اودھ شجاع الدولہ اور آصف الدولہ اور والیان ریاست ٹونک کے خطابات امیر الدولہ و وزیر الدولہ اور نواب بنگالہ سراج الدولہ کے خطاب سے اور سرسید کے خطاب جوادالدولہ سے زیادہ قدیم اور زیادہ وقیع ہے۔کیونکہ فرخ سیر شہنشاہ ہندوستان تھا۔اس کے بیٹے محمد شاہ کے بعد سلاطین