سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 639 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 639

سیرت المہدی 639 حصہ سوم بے شک آئے میں اس کے برداشت کرنے میں راحت پاؤں گا۔701 بسم الله الرحمن الرحیم مینشی عبد العزیز صاحب او جلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۱ء کا ذکر ہے۔جبکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گورداسپور میں فوجداری دعوی کیا ہوا تھا اور حضور خانصاحب علی محمد صاحب پنشنر کے مکان متصل مسجد حجاماں میں مقیم تھے۔خاکسار اور میاں جمال الدین اور امام الدین و خیر الدین صاحبان ساکنان سیکھواں حضور کے ساتھ تھے۔باقی دوست دوسری جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ایک دن حضور کو پیچش کی شکایت ہوگئی۔بار بار قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔حضور نے ہمیں سوئے رہنے کے لئے فرمایا جب حضور رفع حاجت کے لئے اُٹھتے تو خاکسار اسی وقت اُٹھ کر پانی کا لوٹا لے کر حضور کے ساتھ جاتا۔تمام رات ایسا ہی ہوتا رہا۔ہر بار حضور یہی فرماتے کہ تم سوئے رہو۔صبح کے وقت حضور نے مجلس میں بیٹھ کر ذکر فرمایا کہ مسیح کے حواریوں اور ہمارے دوستوں میں ایک نمایاں فرق ہے۔ایک موقعہ مسیح پر تکلیف کا آتا ہے تو وہ اپنے حواریوں کو جگاتے ہیں۔اور کہتے ہیں جاگتے رہو اور دعائیں مانگومگر وہ سو جاتے ہیں۔اور بار بار جگاتے ہیں مگر وہ پھر سو جاتے ہیں۔لیکن ہم اپنے دوستوں کو بار بار تاکید کرتے ہیں کہ سور ہو۔لیکن وہ پھر بھی جاگتے ہیں۔چنانچہ خاکسار کا نام لے کر فرمایا۔کہ میں نہیں جانتا کہ میاں عبدالعزیز تمام رات سوئے بھی ہیں کہ نہیں۔میرے اٹھنے پر فوراً ہوشیاری کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور باوجود میرے بار بار تاکید کرنے کے کہ سوئے رہواُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مسیح ناصری کا یہ قول سچا ہے اور ضرور سچا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو ہر غیر متعصب شخص کو ماننا پڑے گا۔کہ جو شیر میں پھل حضرت مسیح موعود کی صحبت نے پیدا کیا ہے وہ حضرت مسیح ناصری کی صحبت ہرگز پیدا نہیں کر سکی۔حضرت مسیح موعود کے انفاس قدسیہ نے ہزاروں لاکھوں انسانوں کی ایسی جماعت پیدا کر دی جو آپ کے لئے اپنی جان قربان کر دینے کو سب فخروں سے بڑھ کر فخر مجھتی تھی اور آپ کی ذراسی تکلیف پر اپنا ہر آرام و راحت قربان کر دینے کو تیار تھی۔مگر حضرت