سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 638
سیرت المہدی 638 حصہ سوم آپ اُسے رکھ لیتے اور فرماتے کہ حافظ مانا کے لئے بھی کھانا لاؤ۔میں اس کے لئے عام لنگری کھانا ( یعنی زمیندارہ کھانا ) لاتا۔جب وہ آجاتا۔تو آپ حافظ مانے کو فرماتے کھانا کھاؤ اور خود بھی اپنا کھانا شروع کر دیتے۔آپ بہت آہستہ آہستہ اور بہت تھوڑا کھاتے تھے۔جب معین الدین اپنا کھانا ختم کر لیتا۔تو آپ پوچھتے کہ اور لو گے؟ جس پر وہ کہتا۔کہ جی ، ہے تو دیدیں۔جس پر آپ اپنا کھانا جو قریباً اسی طرح پڑا ہوتا تھا۔اُسے دیدیتے تھے۔آپ چوتھائی روٹی سے زیادہ نہیں کھاتے تھے۔اور سالن دال بہت کم لگاتے تھے مگر اکثر اوقات سالن دال ملالیا کرتے تھے۔اس طرح مانا سب کچھ کھا جاتا تھا۔ان ایام میں بالعموم سہ پہر کے بعد آپ مجھے ایک پیسہ دیتے کہ اس کے چنے بھنو الا ؤ۔میں بھنو الا تا۔پھر تھوڑے سے دانے کھا کر پانی پی لیتے۔اور ایک پیسہ کے دانے کئی دن تک کام آتے رہتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ معین الدین جواب کئی سال ہوئے فوت ہو چکا ہے ایک نابینا شخص تھا۔مگر نہایت مخلص شخص تھا حضرت صاحب کے پاؤں دبایا کرتا تھا۔اور کبھی کبھی حضرت صاحب کو پنجابی شعر بھی سُنایا کرتا تھا۔اور گوغریب تھا مگر چندہ بہت باقاعدہ دیتا تھا۔700 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مولوی کرم دین والے مقدمہ کے ایام میں آخری مرحلہ پر خواجہ کمال الدین صاحب نے گورداسپور سے ایک خط حضرت صاحب کے نام دیا اور زبانی بھی کہا کہ یہ عرض کر دینا کہ حکام کی نیت بد ہے۔حضور دعا فرمائیں۔میں وہ خط لے کر قادیان آگیا۔وہ خط حضور نے پڑھ لیا۔میں نے زبانی بھی عرض کیا مگر حضور نے کچھ جواب نہ دیا۔پھر عرض کی۔پھر جواب نہ ملا۔پھر تیسری دفعہ عرض کرنے پر مسکرا کر فرمایا۔کہ میں ایسے کاموں کے لئے دعا نہیں کرتا۔خدا تعالے سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ایک خاص حالت اور خاص مقام محبت کی بات ہے۔ورنہ آپ سے بڑھ کر دعا کس نے کرنی ہے۔دراصل آپ کا منشاء یہ تھا کہ میں خدا کے دین کی خدمت میں مصروف ہوں۔اگر اس خدمت میں مجھ پر کوئی ذاتی تکلیف وارد ہوتی ہے تو میں اس کے لئے دُعا نہیں کرونگا کیونکہ خدا خود دیکھ رہا ہے۔وہ میری حفاظت فرمائے گا اور اگر اس کے منشاء کے ماتحت مجھ پر کوئی تکلیف ہی آنی ہے تو