سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 640 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 640

سیرت المہدی 640 حصہ سوم مسیح ناصری بارہ آدمیوں کی قلیل جماعت کو بھی سنبھال نہ سکے۔اور ان میں سے ایک نے تمہیں روپے لے کر آپ کو پکڑوا دیا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے حفظ امن کا مقدمہ غالباً ۱۸۹۹ء کو ہوا تھا۔اس لئے سنہ کے متعلق میاں عبدالعزیز صاحب کو غالباً سہو ہوا ہے۔702 بسم الله الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ گورداسپور میں جناب چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر احمدی تھے۔ایک دن دو پہر کے قریب وہ میرے پاس موضع او جلہ میں جو کہ میرا اصل گاؤں ہے تشریف لائے اور مجھ کو علیحدہ کر کے کہا۔کہ ابھی ایک تار محکمانہ طور پر امرتسر سے آیا ہے کہ جو وارنٹ مرزا صاحب کی نسبت جاری کیا گیا ہے اس کو فی الحال منسوخ سمجھا جائے۔چودھری صاحب نے کہا کہ وارنٹ تو ہمارے پاس ابھی تک کوئی نہیں پہنچا۔لیکن ہمارے اس ضلع میں سوائے حضرت صاحب کے مرزا صاحب اور کون ہو سکتا ہے۔اس لئے آپ فوراً قادیان جا کر اس بات کی اطلاع حضرت صاحب کو دے آئیں۔چنانچہ میں اسی وقت قادیان کی طرف روانہ ہوا۔قادیان او جلہ سے کوئی ۷ امیل کے فاصلہ پر ہے۔میں سیکھواں سے ہوتا ہوا شام کو یا صبح کو قادیان پہنچا اور حضرت۔صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی۔لیکن حضرت صاحب نے اس وقت کوئی توجہ نہ فرمائی۔عصر کے بعد حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم امرتسر سے آئے اور انہوں نے بھی حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ کسی پادری نے حضور پر امرت سر میں دعوی دائر کیا ہے۔جس کی خبر کسی طرح سے انہیں مل گئی ہے۔اس بات کوسُن کر حضرت اقدس نے فوراً مجھے بلوایا اور فرمایا کہ آپ کی بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔فوراً گورداسپور جا کر چودھری رستم علی صاحب سے مفصل حالات دریافت کر کے لاؤ۔میاں خیر الدین سیکھوانی بھی اس وقت قادیان میں تھے۔میں نے ان کو ساتھ لیا۔اور ہم دونوں اسی روز شام کو گورداسپور پہنچ گئے۔چودھری رستم علی صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو اس وقت تک اس سے زیادہ علم نہیں ہو سکا۔آپ فوراً امرت سر چلے جائیں اور وہاں کے کورٹ انسپکٹر سے جس کا نام پنڈت ہر چرند اس تھا۔میرا نام لے کر معاملہ دریافت کریں۔چودھری صاحب نے مجھے ریلوے پولیس کے ایک کنسٹیبل کے ہمراہ کر دیا۔جو مجھے رات اپنے