سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 637
سیرت المہدی 637 حصہ سوم بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے۔حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے۔کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اُسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو۔تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔میں نے حضرت اُم المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا۔کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آجایا کرتا ہے۔اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔697 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فور اروزہ توڑ دیا۔آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کے متعلق بھی یہی ذکر آتا ہے کہ آپ ہمیشہ دو جائز رستوں میں سے سہل رستہ کو پسند فرماتے تھے۔698 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ کتا بیں جواکثر حضرت صاحب کی زیر نظر رہتی تھیں۔نیز تصنیف کے تمام کاغذات بستوں میں بندھے رہتے تھے ایک ایک وقت میں اس قسم کے تین تین بستے جمع ہو جاتے تھے۔عموماً دو بستے تو ضرور رہتے تھے یہ بستے سلے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔بلکہ صرف ایک چورس کپڑا ہوتا تھا۔جس میں کاغذ اور کتا بیں رکھ کر دونوں طرف سے گانٹھیں دے لیا کرتے تھے۔تصنیف کے وقت آپ کا سارا دفتر آپ کا پلنگ ہوتا تھا۔اسی واسطے ہمیشہ بڑے پلنگ پر سویا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میں نے حضرت صاحب کو کبھی میز کرسی لگا کر کام کرتے نہیں دیکھا۔البتہ بسا اوقت ٹہلتے ہوئے تصنیف کا کام کیا کرتے تھے اور ا کثر پلنگ یا فرش پر بیٹھ کر کام کرتے تھے۔699 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب لنگروال نے مجھ سے بیان کیا کہ ابتدائی زمانہ میں حافظ معین عرف ما نا حضرت صاحب کے پاس اکثر آیا کرتا تھا۔میں جب حضرت صاحب کا کھانا لاتا۔تو