سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 632 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 632

سیرت المہدی 632 حصہ سوم کمرہ ہی مہمان خانہ ہوتا تھا۔پھر اس میں پریس آ گیا۔جب یہاں مہمان خانہ تھا تو یہیں کھانا وغیرہ کھلایا جاتا تھا۔اور کا تب بھی اسی جگہ مسودات کی کاپیاں لکھا کرتا تھا اور حضرت صاحب کا ملاقات کا کمرہ بھی یہی تھا۔ان دنوں میں مہمان بھی کم ہوا کرتے تھے۔۹۵ء میں حضرت والد صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب پنشن لیکر قادیان آگئے اور چونکہ اس وقت پر لیس اور مہمانوں کے لئے فصیل قصبہ کے مقام پر مکانات بن چکے تھے۔اس لئے میر صاحب گول کمرہ میں رہنے لگے اور انہوں نے اس کے آگے دیوار روک کر ایک چھوٹا سا صحن بھی بنالیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گول کمرہ اس کمرہ کا نام ہے جو مسجد مبارک کے قریب احمد یہ چوک پر واقع ہے اس کے ماتھے کی دیوار گول ہے۔ابتداء زمانہ خلافت میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایده الله نے بھی کئی سال تک اس میں اپنا دفتر رکھا تھا۔690 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹرمیر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب قادیان کی فصیل کی جگہ پر مکانات بنے تو سب سے پہلے دو بڑے کمرے اور دو کوٹھڑیاں شمالی جانب تعمیر ہوئیں۔وہ بڑا کمرہ جواب حضرت خلیفة المسیح الثانی کا موٹر خانہ ہے۔یہ ضیاء الاسلام پر یس کے لئے بنا تھا اور اس کے ساتھ کا کمرہ مہمانوں کے لئے تھا۔جس میں حضرت خلیفہ اول مدت العمر مطب کرتے رہے۔اس کے ساتھ شمالی جانب دو کوٹھڑیاں بنیں۔ایک شرقی جانب جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کتب خانہ رہتا تھا اور دوسری غربی جانب جس میں خاص مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی اور دیگر معزز مہمان ان ایام میں اسی کوٹھڑی میں ٹھہر تے تھے۔691 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں اپنے خاندانی حالات کا متعدد جگہ ذکر کیا ہے۔جن میں سے مندرجہ ذیل مقامات خاص طور پر قابل ذکر ہیں :۔(1) كتاب البریه ص۱۳۴ تا ۶۸ ۱ حاشیہ۔(۲) ازاله اوهام - باراوّل ص ۱۱۹ تا ۱۳۳ حاشیہ۔