سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 631
سیرت المہدی 631 حصہ سوم کرنال والی لائن سے سفر کیا۔کیونکہ دوسری طرف سے راستہ میں دو دفعہ دریا کائیل آتا تھا۔اور ان دنوں میں کچھ حادثات بھی ریلوں کے زیادہ ہوئے تھے۔اسی ضمن میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے۔کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح اول کے بھتیجے نے جو ایک نشہ باز اور خطر ناک آدمی تھا۔حضور کو ایک خط تحریر کیا۔اور اس میں قتل کی دھمکی دی۔کچھ دن بعد وہ خود قادیان آ گیا۔آپ نے جب سُنا تو حضرت خلیفہ اول کو تاکیدا کہلا بھیجا کہ اسے فورار خصت کر دیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے اُس کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لکڑی کے شہتیر ہوتے تھے۔جن سے یہ خطرہ ہوتا تھا۔کہ اگر شہتیر ٹوٹے تو ساری چھت گر جائے گی۔مگر آجکل لوہے کے گاڈر نکل آئے ہیں۔جو بہت محفوظ ہوتے ہیں۔687 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ نماز پر زور دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھا کرو“۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سنوار کر پڑھنے سے یہ مراد ہے کہ دل لگا کر پوری توجہ کے ساتھ ادا کی جائے۔اور نماز میں خشوع خضوع پیدا کیا جائے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں ایسی کیفیت پیدا کر لے تو وہ گویا ایک مضبوط قلعہ میں آجاتا ہے۔688 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی ایک بیوی ڈاکٹر نی کے نام سے مشہور تھی وہ مدتوں قادیان آ کر حضور کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔اس بیچاری کوسل کی بیماری تھی۔جب وہ فوت ہوگئی تو اس کا ایک دو پٹہ حضرت صاحب نے دعا کے لئے یاد دہانی کے لئے بیت الدعا کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے بندھوا دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ڈاکٹر نی مرحومہ بہت مخلصہ تھی اور اس کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کا اخلاص بھی ترقی کر گیا تھا۔689 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قریب ۹۳ تک گول