سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 539
سیرت المہدی لیا۔539 حصہ سوم 550 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ میرے سامنے مندرجہ ذیل اصحاب کے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت پڑھی ہے۔(۱) حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول (۲) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی (۳) حضرت حکیم فضل الدین صاحب مرحوم بھیروی (۴) پیر سراج الحق صاحب نعمانی (۵) مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی (1) بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب (۷) حضرت میر ناصر نواب صاحب (۸) مولوی سید سرور شاہ صاحب (۹) مولوی محمد احسن صاحب (امروہی) (۱۰) پیر افتخار احمد صاحب۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری روایتوں سے قاضی امیرحسین صاحب اور میاں جان محمد کے پیچھے بھی آپ کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔دراصل آپ کا یہ طریق تھا کہ بالعموم خود امامت کم کراتے تھے اور جو بھی دیندار شخص پاس حاضر ہوتا تھا اُسے امامت کے لئے آگے کر دیتے تھے۔551 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بچپن میں تمہاری (یعنی خاکسار مرزا بشیر احمد کی) آنکھیں بہت خراب ہو گئی تھیں۔پلکوں کے کنارے سُرخ اور سوجے رہتے تھے اور آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا۔بہت علاج کئے مگر فائدہ نہ ہوا۔حضرت صاحب کو اس بات کا بہت خیال تھا۔آخر ایک روز الہام ہوا۔”بَرَّقَ طِفْلِی بَشِیر ، یعنی میرے بچے بشیر کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔اس کے بعد ایک دوا بھی کسی نے بتائی وہ استعمال کرائی گئی۔اور خدا کے فضل سے آنکھیں بالکل صاف اور تندرست ہو گئیں۔میر صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ا کثر اوقات جب تم حضرت صاحب کے سامنے جاتے تو آپ محبت کے انداز سے تمہیں مخاطب کر کے فرماتے تھے کہ " بَرَّقَ طِفْلِی بَشِير میرے بچے بشیر کی آنکھیں روشن ہوگئی ہیں۔66 خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری ظاہری آنکھیں تو بے شک صاف اور تندرست ہو گئیں اور میں نے