سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 540
سیرت المہدی 540 حصہ سوم خدا کے فضل سے حصہ پالیا۔اور میں اس کا شکر گزار ہوں۔لیکن اگر خدا کی یہ بشارت صرف ظاہر تک محدود تھی تو خدا کی شان کے لحاظ سے یہ کوئی خاص لطف کی بات نہیں اور اس کے فضل کی تعمیل کا یہ تقاضا ہے کہ جس طرح ظاہر کی آنکھیں روشن ہوئیں اسی طرح دل کی آنکھیں بھی روشن ہوں اور خدائی الہام میں تو آنکھ کا لفظ بھی نہیں ہے۔پس اے میرے آقا! میں تیرے فضل پر امید رکھتا ہوں کہ جب میرے لئے تیرے در بار کی حاضری کا وقت آئے تو میری ظاہری آنکھوں کے ساتھ دل کی آنکھیں بھی روشن ہوں۔نہیں بلکہ جیسا کہ تیرے کلام میں اشارہ ہے، میرا ہر ذرہ روشن ہو کر تیرے قدموں پر ہمیشہ کے لئے گر جائے۔این است کام دل ، گر آید میترم 552 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص وحی الہی کا دعوی کرے اور ایک جماعت بنالے اور اس کا مذہب دنیا میں اچھی طرح رائج اور قائم ہو جائے اور مستقل طور پر چل پڑے۔تو سمجھنا چاہئے کہ وہ شخص سچا تھا اور یہ کہ اس کا مذہب اپنے وقت میں سچامذ ہب تھا کیونکہ جھوٹے مدعی کا مذہب کبھی قائم نہیں ہوتا۔فرماتے تھے کہ اس وقت دنیا میں جتنے قائم شدہ مذہب نظر آتے ہیں۔ان سب کی ابتداء اور اصلیت حق پر تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے یہ اصول اپنی کتب میں بھی متعدد جگہ بیان فرمایا ہے مگر ساتھ تصریح کی ہے کہ کسی مذہب کا دُنیا میں پوری طرح راسخ ہو جانا اور نسل بعد نسل قائم رہنا اور قبولیت عامہ کا جاذب ہو جانا شرط ہے۔553 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔ہاں کثرتِ مطالعہ اور کثرت تدبر سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ جب کوئی مضمون نکالنا ہوتا تو خود بتا کر حفاظ سے پوچھا کرتے تھے کہ اس معنے کی آیت کونسی ہے یا آیت کا ایک ٹکڑا پڑھ دیتے یا فرماتے کہ جس آیت میں یہ لفظ آتا ہے وہ آیت