سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 538
سیرت المہدی 538 حصہ سوم موعود علیہ السلام موسم گرما میں بعد نماز مغرب مسجد مبارک کے شاہ نشین پر مع خدام حضرت خلیفہ اول و مولوی عبد الکریم صاحب و خواجہ کمال الدین صاحب و ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیره رونق افروز تھے۔کسی کام کے لئے بٹالہ تار دینا تھا۔اس وقت چونکہ قادیان میں تار گھر نہ تھا۔حضور نے فرمایا بٹالہ جانے کے لئے کوئی تیاری کرلے۔دو آدمی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم تیار ہیں۔فرمایا ٹھہرو میں نیچے سے تار کی فیس لا دیتا ہوں۔ہر چند اصحاب متذکرہ بالا نے عرض کیا کہ حضور نیچے جانے کی تکلیف نہ فرمائیں۔ہم فیس ادا کر دینگے اور صبح حضور وہ رقم واپس دے دیویں مگر حضور نے نہ مانا اور فوراً نیچے چلے گئے اور تار کی فیس دے کر اُن کو روانہ کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں قادیان میں نہ تار تھی نہ ریل تھی اور نہ ٹیلیفون تھا۔مگر اب کئی سال سے یہ تینوں ہیں۔تار کے متعلق بعض اوقات بڑی مشکل کا سامنا ہوتا تھا کیونکہ آنے والی تار بٹالہ سے قادیان تک ڈاک میں آتی تھی اور جو تار قادیان سے بھجوانی ہوتی اُس کے لئے خاص آدمی بٹالہ بھجوانا پڑتا تھا اور اس طرح عموماً تار کی غرض فوت ہو جاتی تھی۔مگر اب خدا کے فضل سے جہاں تک ذرائع رسل و رسائل کا تعلق ہے قادیان بڑے شہروں کی طرح ہے۔549 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سید محمد علی شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے ایک شاگرد نے مجھے شیشم کی ایک چھڑی بطور تحفہ دی۔میں نے خیال کیا کہ میں اس چھڑی کو حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرونگا چنانچہ خاکسار نے قادیان پہنچ کر بوقت صبح جبکہ حضور سیر سے واپس تشریف لائے وہ چھڑی پیش کر دی۔حضور کے دست مبارک کی چھڑی میری پیش کردہ چھڑی سے بدرجہا خوبصورت و نفیس تھی لہذا مجھے اپنی کو تہ خیالی سے یہ خیال گزرا کہ شاید میری چھڑی قبولیت کا شرف حاصل نہ کر سکے۔مگر حضور نے کمال شفقت سے اُسے قبول فرما کر دعا کی۔بعد ازاں تین چار روز تک حضور علیہ السلام میری چھڑی کو لے کر باہر سیر کو تشریف لے جاتے تھے جسے دیکھ کر میرے دل کو تسکین و اطمینان حاصل ہوا۔پھر حضور بدستور سابق اپنی پرانی چھڑی ہی لانے لگے اور میری پیش کردہ چھڑی کو گھر میں رکھ