سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 537
سیرت المہدی 537 حصہ سوم السلام ایک مرتبہ گھر میں فرمانے لگے۔کہ لڑکے جب جوان ہو جائیں تو ان کی رہائش کے لئے الگ کمرہ ہونا چاہئے۔چنانچہ فلاں لڑکے کے لئے اس کو ٹھے پر ایک کمرہ بنا دو۔546 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ سب دوست اس موضوع پر ایک مضمون لکھیں۔کہ مذہب کیا ہے اور کامل مذہب کیسا ہونا چاہئے۔کچھ دنوں کے بعد بہت سے مضامین آگئے اور بہت سے مقامی اور بعض بیرونی دوست خود سُنانے کے لئے تیار ہو گئے۔اس پر آپ نے کبھی مسجد میں اور کبھی سیر میں ان مضامین کوسنا شروع کر دیا۔حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی عبد الکریم صاحب۔میاں معراج الدین صاحب عمر۔خواجہ جمال الدین صاحب کے مضمون اور بہت سے دیگر احباب کے مضامین سُنائے گئے۔کئی دن تک یہ سلسلہ جاری رہا۔آخر میں حضرت صاحب نے اپنا مضمون بھی سُنایا۔مگر اپنا مضمون غالباً سیر میں سُنایا کرتے تھے۔اس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ آپ نے لکھا کہ ہر مضمون نگار نے مذہب کے معنے ”راستہ“ کے کئے ہیں۔مگر مذہب کے معنے ”روش“ کے ہیں پس مذہب وہ روش اور طریق رفتار ہے جسے انسان اختیار کرے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عربی لغت کی رُو سے مذہب کے معنی رستہ اور روش ہر دو کے ہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ مؤخر الذکر معنوں میں جو لطافت اور وسعت ہے وہ مقدم الذکر میں نہیں۔547 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تقریر یا مجلس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے تو بسا اوقات ان محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرماتے۔کہ ” ہمارے آنحضرت نے یوں فرمایا ہے۔اسی طرح تحریر میں آپ آنحضرت ﷺ کے نام کے بعد صرف آپ نہیں لکھتے تھے بلکہ پورا درود یعنی ” صلے اللہ علیہ وسلم“ لکھا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اس کمال کے مقام پر تھی جس پر کسی دوسرے شخص کی محبت نہیں پہنچتی۔548 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح