سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 45

سیرت المہدی 45 حصہ اوّل 55 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعود نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروا دیا۔(حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احد اللہ صاحب مرحوم کو بھیج کر حضرت صاحب کی طرف سے حج بدل کر وایا تھا) اور حافظ صاحب کے سارے اخراجات والدہ صاحبہ نے خود برداشت کئے تھے۔حافظ صاحب پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔56 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کھانوں میں سے پرندہ کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے۔شروع شروع میں بٹیر بھی کھاتے تھے لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ نے اس کا گوشت کھانا چھوڑ دیا کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔مچھلی کا گوشت بھی حضرت صاحب کو پسند تھا۔ناشتہ با قاعدہ نہیں کرتے تھے۔ہاں عموما صبح کو دودھ پی لیتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جاتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا مگر پی لیتے تھے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ پکوڑے بھی حضرت صاحب کو پسند تھے۔ایک زمانے میں سنجبین کا شربت بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی۔ایک دفعہ آپ نے ایک لمبے عرصہ تک کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھائی صرف تھوڑے سے دہی کے ساتھ روٹی لگا کر کھا لیا کرتے تھے۔کبھی کبھی مکی کی روٹی بھی پسند کرتے تھے۔کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے جاتے تھے کچھ کھاتے تھے کچھ چھوڑ دیتے تھے۔کھانے کے بعد آپ کے سامنے سے بہت سے ریزے اُٹھتے تھے۔ایک زمانہ میں آپ نے چائے کا بہت استعمال فرمایا تھا مگر پھر چھوڑ دی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا حضرت صاحب کھانا بہت تھوڑا کھاتے تھے اور کھانے کا وقت بھی کوئی خاص مقرر نہیں تھا۔صبح کا کھانا بعض اوقات بارہ بارہ ایک ایک بجے بھی کھاتے تھے۔شام کا کھانا عموماً مغرب کے بعد مگر کبھی کبھی پہلے بھی کھا لیتے تھے۔غرض کوئی وقت معین نہیں تھا، بعض اوقات خود کھانا مانگ لیتے تھے کہ لاؤ کھانا تیار ہے تو دے دو پھر میں نے کام شروع کرنا ہے۔خاکسار نے دریافت کیا کہ آپ کس وقت کام کرتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ بس سارا دن کام میں ہی گزرتا تھا۔