سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 44 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 44

سیرت المہدی 44 حصہ اوّل دیا کرتے تھے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا بہت دیا کرتے تھے۔اور آخری ایام میں جتنا روپیہ آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقے کے لئے الگ کر دیتے تھے اور اس میں سے دیتے رہتے تھے۔والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ دسویں حصہ سے زیادہ نہیں دیتے تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات اخراجات کی زیادت ہوتی ہے تو آدمی صدقہ میں کوتاہی کرتا ہے لیکن اگر صدقہ کا روپیہ پہلے سے الگ کر دیا جاوے تو پھر کوتا ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ روپیہ پھر دوسرے مصرف میں نہیں آسکتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا اسی غرض سے آپ دسواں حصہ تمام آمد کا الگ کر دیتے تھے ورنہ ویسے دینے کو تو اس سے زیادہ بھی دیتے تھے۔خاکسار نے عرض کیا کہ کیا آپ صدقہ دینے میں احمدی غیر احمدی کا لحاظ رکھتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا نہیں بلکہ ہر حاجت مند کو دیتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں قادیان میں ایسے احمدی حاجت مند بھی کم ہی ہوتے تھے۔6548 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود جب کسی سے قرضہ لیتے تھے تو واپس کرتے ہوئے کچھ زیادہ دے دیتے تھے۔خاکسار نے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی مثال یاد ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس وقت مثال تو یاد نہیں مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا فرمایا ہے۔اور والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب کوئی نیکی کی بات نہیں بیان فرماتے تھے جب تک کہ خود اس پر عمل نہ ہو۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود نے کبھی کسی کو قرض بھی دیا ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں کئی دفعہ دیا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ مولوی صاحب ( خلیفہ اول اور حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے آپ سے قرض لیا۔مولوی صاحب نے جب قرض کا روپیہ واپس بھیجا تو آپ نے واپس فرما دیا اور کہلا بھیجا کہ کیا آپ ہمارے روپے کو اپنے روپے سے الگ سمجھتے ہیں۔مولوی صاحب نے اسی وقت حکیم فضل الدین صاحب کو کہلا بھیجا کہ میں یہ غلطی کر کے جھاڑ کھا چکا ہوں۔دیکھا تم روپیہ واپس نہ بھیجنا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مولوی صاحب نے یہ بھی حکیم صاحب کو کہا تھا کہ اگر ضرور واپس دینا ہوا تو کسی اور طرح دے دینا۔